علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

ڈاکٹر زاہد مغل جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ...

بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

ڈاکٹر زاہد مغل سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا...

اخبارِ آحاد بحیثیت مفسر، مخصص،ناسخ ایک شبہے کا ازالہ

ڈاکٹر زاہد مغل “نبی دین کسی کے کان میں نہیں بتاتے تھے” کے شبہے پر قاضی باقلانی کا تبصرہ اخبار احاد سے ثابت بیان تفسیر، تخصیص و نسخ کو مشکوک بنانے کے لئے ایک شبہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ دین کا حکم کسی کے کان میں تھوڑی بتاتے تھے، گویا جس طرح مجمل و عام و...

اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے: 1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں، 2) جب...

غامدی صاحب اور امام شافعی

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا خیال ہے کہ وہ امام شافعی کے تصور بیان کے کسی پراجیکٹ کی تکمیلی صورت ہیں کہ امام شافعی بعض اطلاقی صورتوں میں سنت کو قرآن کی اس مفہوم میں شرح دکھانے میں ناکام رہے جسے غامدی صاحب شرح و بیان کہتے ہیں۔ جناب عمار صاحب نے اس تھیسز کو اپنی کتاب کے...

قرآن مجید کے ساتھ سنت کے متعلق ہونے کی تین جہات

جہانگیر حنیف پہلا درجہ یہ ہے کہ سنت ہر پہلو سے قرآن کے موافق ہو؛ چنانچہ قرآن اور سنت کا کسی ایک حکم پر وارد ہونا دراصل دلائل کے باہم موافقت اور ایک دوسرے کی تائید کی مثال ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ سنت قرآن کے مراد کی توضیح و تشریح کرے اور اس کا بیان بنے۔ تیسرا درجہ یہ...