امام النواصب جاوید غامدی

Published On December 2, 2024
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اسلام کا جنگی نظام " جہاد " عرصہ دراز سے مخالفین اسلام کے طعن و تشنیع اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے۔ علماء امت ہر زمانے میں اس کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں لیکن ماضی قریب میں جب سے برقی ایجادات عام ہو ئیں ، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پوری...

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟ شهادت علی الناس:۔ شہادت علی الناس کا سیدھا اور سادہ معروف مطلب چھوڑ کر غامدی صاحب نے ایک اچھوتا مطلب لیا ہے جو یہ ہے کہ جیسے رسول اپنی قوم پر شاہد ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہ پر شاہد تھے ، ایسے ہی صحابہ کو اور صرف صحابہ کو دیگر محدود...

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟  غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ:۔ ویسے تو کسی نظریے کے غلط ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ امت کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے سے متصادم ہے، لیکن اگر کچھ نادان امت کے اجتماعی ضمیر کو اتھارٹی ہی تسلیم نہ کرتے ہوں اور اپنے دلائل پر نازاں ہوں تو...

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد غامدی تصور جہاد کی سنگینی اور انوکھا پن:۔ پوری اسلامی تاریخ میں اہل سنت کا کوئی قابل ذکر فقیہ مجتہد، محدث اور مفسر اس اچھوتے اور قطعی تصور جہاد کا قائل نہیں گذرا، البتہ ماضی قریب میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمدقادیانی نے اس قبیل کی...

احمد الیاس

ہر ضلالت کی طرح ناصبیت بھی اپنی ہر بات کی تردید خود کرتی ہے۔ ایک طرف یہ ضد ہے کہ سسر اور برادر نسبتی کو بھی اہلبیت مانو، دوسری طرف انتہاء درجے کی بدلحاظی اور بدتمیزی کے ساتھ امام النواصب جاوید غامدی کہتے ہیں کہ داماد اہلبیت میں نہیں ہوتا لہذا علی بن ابی طالب اہلبیت میں نہیں ہیں۔

یہ بات تو دین کی تھوڑی سی فہم رکھنے والا ایک ذہین بچہ بھی بخوبی سمجھتا ہے کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم دامادِ رسول ہونے سے پہلے رسول اللہ کے بھائی اور بیٹے ہیں۔ اہلبیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مولا علی کا داخلہ سیدّہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے نکاح کے سبب نہیں ہوا۔ آپ اپنی ولادت کے دن سے اہلبیت میں داخل تھے، صرف آپ نہیں بلکہ آپ کے والدین بھی اہلبیت کا حصہ ہیں۔

دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی فضیلت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلتوں میں بہت بعد میں آتی ہے۔ مولا کی اولین فضیلت اللہ کا خاص اور مقرب بندہ اور اس کے دین کا بے مثال حامی و مددگار ہونا ہے۔ باقی سب فضیلتیں (بشمول رکنیتِ اہلبیتِ رسول) اس کے بعد آتی ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ رسول اللہ ص کی عائلی زندگی کے معاملات عام لوگوں کی طرح ہرگز نہیں۔ عام مسلمان بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتا اور عام شخص کی نسل بیٹی سے نہیں، صرف بیٹے سے چلتی ہے۔ رسول اللہ ص کے معاملے میں یہ دونوں اصول اللہ کے حکم سے لاگو نہیں ہوتے۔ بالکل اس طرح آپ کے اہلبیت کو بھی عربیت یا عُرف کے حوالے سے دیکھنا کھلی جہالت ہے۔

رسول اللہ ص کے اہلبیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے وہ اپنے اہلبیت میں کہیں۔ مولا علی تو رسول اللہ کے خونی رشتے دار ہیں، ہم تو زید بن حارث، اسامہ بن زید اور سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اہلبیت میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں مگر اہلبیت کا مغز، اہلبیت کا وہ حصہ جسے اللہ نے رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔۔۔ اہل کسا، اہل مباہلہ یعنی علی و فاطمہ اور حسنین ہی ہیں۔

امہات المومنین کے اہلبیت میں سے ہونے میں بھی کوئی شک نہیں لیکن غامدی صاحب سے کروڑ درجے بہتر فہم دین رکھنے والے امام بخاری رح نے احادیث کے جو ابواب بنائے ہیں ان میں فضائل اہلبیت کی کئی خاص نوعیت کی عمومی احادیث (جن کا تعلق اہلبیت کے مرکز رشد و ہدایت ہونے سے ہے) امہات المومنین کے باب میں نہیں، حسنین کریمین کے باب میں ڈالی ہیں، حالانکہ ان میں حسنین کا نام لے کر ذکر بھی نہیں۔ یہی طرز عمل محدثین کے استاد امام احمد بن حنبل کے ہاں نظر آتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.