قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

Published On February 6, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

جہانگیر حنیف

کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور اگر ممکن یے، تو گمراہی کا سبب ہے۔ جب ہم کلام کے خود مکتفی ہونے کو زیر بحث لاتے ہیں، تو مخالف کیمپ والے فوراً قرآن کے میزان اور فرقان ہونے کو بطور دلیل پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن بلاشبہ میزان اور فرقان ہے۔ ہم بفضلِ خدا قرآن مجید کے میزان اور فرقان ہونے پر صدقِ دل سے یقین رکھتے ہیں۔ لیکن میزان اور فرقان کا یہ معنی نہیں کہ قرآن مجید کو متکلم کی ضرورت اور اہمیت سے محروم کردیا جائے۔ قرآن مجید نے میزان و فرقان بن کر دکھایا ہے۔ وہ محض تصور کی سطح پر میزان و فرقان نہیں، عملاً ہے۔ قرآن مجید نے حق کو باطل سے ممتاز کیا اور ان کے درمیان ایسا فرق قائم کردیا کہ رہتی دنیا تک اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وجہ ہے کہ ہم روایت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ قرآن مجید نے جس روایت کو قائم کیا اور اسے اپنی صحت کی سب سے بڑی دلیل بنایا، ہمارے متجددین اسے غیر متعلق بنانے میں دن رات کوشاں ہیں۔ ان کے قرآن فہمی کے اصول دو نسلوں تک ممتد ہوتے ہیں۔ ان کا دینی تصور ایک نسل تک ممتد ہوتا ہے اور ان کا فقہی ڈھانچہ ابھی قائم ہوا چاہتا ہے۔ دو نسلوں کی متاع کو بچانے میں انھوں نے پوری روایت کو پھونک ڈالا۔

قرآن مجید کا میزان اور فرقان ہونا امت میں کبھی متنازعہ نہیں ہوا۔ جب مفسرین شان نزول کی روایتوں سے استفادہ کرتے تھے، جب کسی حدیث کو نقل کرتے یا کسی صحابی / تابعی کے قول سے مستفید ہوتے، تو انھیں یہ خیال کبھی نہیں ستایا کہ انھوں نے قرآن مجید کے میزان اور فرقان ہونے کی مخالفت کی ہے اور نہ دوسرے لوگ انھیں یہ الزام دیتے کہ انھوں نے قرآن مجید کے میزان اور فرقان ہونے کو نقصان پہنچایا ہے۔ بالفاظِ دیگر، قرآن مجید کا میزان اور فرقان ہونا اور خبر واحد سے استفادے کو باہم متضاد تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ قرآن مجید کا میزان اور فرقان ہونا مشہود حقیقت ہے اور یہ مشہود حقیقت رہی گی۔ یہ تدبر قرآن اور البیان کے قلم بند ہونے سے پہلے بھی میزان اور فرقان تھا اور بعد میں بھی میزان اور فرقان رہے گا، چاہے لوگ تدبر قرآن اور البیان کو بھول جائیں اور طبری اور روح المعانی کو پڑھنا شروع کردیں۔ لہذا ہمیں قرآن مجید کے میزان اور فرقان ہونے کو بیان کرکے خاموش نہ کروائیں۔ اس کا محض ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ آپ نہ صرف روایت سے مخالفت کا بیڑہ اٹھائے ہیں، بلکہ اس سے جاہل رہنے کا بھی عزم کیے ہیں۔

قرآن مجید کے میزان اور فرقان ہونے کا اگر مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید ہر لحاظ سے خود مکتفی ہے، تو دین پورے کا پورے قرآن مجید سے ماخوذ ہونا چاہیے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام بھی قرآن مجید میں شرح و بسط سے بیان ہونے چاہیے۔ سنت کا علم ہمیں اجماع و تواتر سے حاصل ہوتا ہے اور یہ دین کا دوسرا ماخذ ہے، تو لامحالہ قرآن مجید اپنے سے غیر پر اپنی تشریح کا محتاج ہے۔ سنت کی دوسری صورت آحاد کی اخبار ہیں۔ ان کی احتیاج متواتر سنت سے الگ ہے۔ امام شافعی جب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کے مقام پر فائز کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مجمل احکامات کو تفصیل دیتے ہیں۔ اس کی مرادات کو واضح فرماتے ہیں۔ اگر کوئی حکم عام ہے اور وہ خاص کے اسلوب میں بیان ہوا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے واضح فرماتے۔ محرماتِ طعام کو چار تک محدود اس لیے نہیں کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے احکام نے واضح فرما دیا کہ اس آیت کا مفہوم ایجابی نہیں، سلبی ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہمارے سامنے نہ ہوتا، تو ہم اس حکم کو ایجابی تصور کرتے اور محرمات کو ان چار تک محدود کردینے کی غلطی میں مبتلا ہو جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے ہمیں سمجھنے کی وجہ فراہم کی کہ ہم اس حکم کو حصر پر محمول نہ کریں، بلکہ بیانِ حرمت تصور کریں۔ اگر سنت پیش نظر نہ ہو، تو اس جملہ کی ترکیب اور لفظوں کی تنظیم حصر کی جانب اشارہ کرتی یے، جو خلافِ مدعا ہے۔ یعنی متکلم کا منشاء سمجھنے کی غلطی لگنے کا قوی امکان ہے۔ یہ امکان محض سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت رفع ہوتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…