(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

Published On April 21, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ استطاعت کا ہونا ’شرط‘ ہے؛ لیکن فرضیت کی شروط کی بات بعد میں آتی ہے؛ پہلے فرضیت کے ’سبب‘ کی باری آتی ہے؛ سبب ہو، تو اس کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ تمام شروط پوری ہیں یا نہیں؛ اگر کوئی شرط پوری نہیں ہے، تو پھر سوال ہوگا کہ شریعت نے اس کا ’بدل‘ قبول کیا ہے یا نہیں؛ اور اگر قبول کیا ہے، تو وہ بدل اس وقت پایا جاتا ہے یا نہیں؛ اگر نہیں، تو اگلا سوال ہوگا کہ اس شرط، یا اس بدل، کا پورا کرنا شرعاً مطلوب ہے، یا اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؛ پھر اگر سبب بھی ہے، تمام شروط بھی پوری ہیں، یا بعض پوری نہیں، تو ان کا بدل پایا جاتا ہے جو شرعاً قابلِ قبول بھی ہے، تو اگلا سوال ہوگا کہ کوئی ایسی بات تو نہیں پائی جاتی جسے شریعت اس فرضیت کی راہ میں ’مانع‘ یعنی رکاوٹ قرار دیا ہو؛ اگر ایسا کوئی مانع پایا جاتا ہے، تو اگلا سوال ہوگا کہ کیا اس مانع کو عذر مان کر آرام سے بیٹھ جائیں گے، یا اس مانع کو دور کرنا شرعاً مطلوب ہوگا؟
سبب، شرط اور مانع کے تصورات کے متعلق بنیادی شرعی اصولوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب شریعت کسی امر کو کسی دوسرے امر کےلیے سبب قرار دے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلے امر کی عدم موجودگی میں دوسرا امر بھی موجود نہیں ہوگا؛ لیکن اگر پہلا امر موجود ہے، تو دوسرا امر بھی موجود ہوگا، اگر اس کےلیے مقررہ شرائط/ان کے بدل بھی موجود ہوں، اور کوئی مانع نہ پایا جائے۔
مثلاً نمازِ ظہر کی فرضیت کےلیے ’دلوک الشمس‘ سبب ہے؛ چنانچہ زوال سے قبل نمازِ ظہر فرض نہیں ہوتی؛ لیکن زوال کے بعد دلوک الشمس ہوا، تو نمازِ ظہر کی فرضیت ثابت ہوگئی؛ اب اس فرض کی ادائی کےلیے شروط (مثلاً جگہ کی صفائی، کپڑوں کی صفائی، بدن کی صفائی وغیرہ) پوری کرنی ہوں گی؛ کوئی امر مانع ہو، جیسے کپڑوں کی ناپاکی، تو اسے دور کرنا لازم ہوگا۔
اب غامدی صاحب کے طریقے کی غلطی کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ان کی بات مانیں، تو دلوک الشمس کے بعد بھی اس شخص پر نمازِ ظہر فرض نہیں ہوگی، جو ناپاکی کی حالت میں ہو کیونکہ نماز کی صحت کےلیے پاکی کا ہونا شرط ہے (بالکل اسی طرح جیسے جہاد کےلیے استطاعت کا ہونا شرط ہے)۔ فرضیت کا سبب آچکا، تو اس کے بعد پاکی کا حصول بھی واجب ہوچکا؛ اسی طرح اگر کسی شرط کا پورا ہونا ممکن نہیں، تو اس کا بدل دیکھنا ضروری ہے، اگر شریعت نے اس کا بدل قبول کیا ہو؛ مثلاً پانی نہ ہو، تو تیمم کے ذریعے بھی پاکی حاصل کی جاسکتی ہے؛ اسی طرح فرض نماز کے بعض فرض ارکان ساقط ہوجاتے ہیں، لیکن نماز کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی؛ جیسے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا، تو بیٹھ کر پڑھے، قیام کی استطاعت نہ ہونے سے قیام کی فرضیت ساقط ہوجائے گی، لیکن نماز کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی؛ بیٹھ کر پڑھنے کی بھی استطاعت نہ ہو، تو اشارے سے پڑھنا لازم ہوجائے گا، لیکن نماز کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی۔
اہلِ غزہ کی نصرت کےلیے جہاد کی فرضیت کی میں بحث غامدی صاحب ایک تو پہلا سوال، کہ جہاد کی فرضیت کا سبب پایا جاتا ہے یا نہیں، چھوڑ کر ثانوی بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ جہاد کی استطاعت ہے یا نہیں؛ نیز وہ عدم استطاعت کو عذر فرض کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ استطاعت کا حصول فرض ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں مختلف لوگوں، اور ان کی مختلف ریاستوں، کےلیے استطاعت کا معیار الگ الگ ہے، اور سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاسکتا؛ جیسے دلوک الشمس کے بعد نماز کوئی کھڑے ہو کر، کوئی بیٹھ کر اور کوئی اشارے سے پڑھے گا، لیکن فرض ادا کرے گا، ایسے ہی ’ظلم و عدوان‘ کی موجودگی میں، جسے غامدی صاحب جہاد کی فرضیت کا سبب مانتے ہیں، کسی پر جہاد کی ایک صورت پر فرض ہوگی، کسی پر دوسری، کسی پر تیسری؛ لیکن فرضیت ساقط نہیں ہوگی جب تک جہاد کی فرضیت کا سبب موجود ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…