غامدی مذہب کیا ہے ؟

Published On July 26, 2024
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

مصنف : پروفیسر محمد رفیق

تلخیص : زید حسن

یہ کتاب ایک مقدمہ ، پانچ ابواب اور ایک ضمیمہ پر مشتمل ہے ۔

مقدمہ میں مصنف نے غامدی صاحب کے افکار کو دینِ اسلام کے متوازی ایک نیا دین قرار دیا ہے ۔ جسکی دلیل کے طور پر مصنف نے روایتی علمیات کے اعتقادی نتائج اور ان سے غامدی صاحب کے اختلاف کو تقابلا ذکر کیا ہے ۔

اپنے بیانیے کی تائید کے لئے انہوں نے مسلم علماء اور سکالرز کی آراءکو نقل کیا ہے ۔

مقدمہ کے ابواب کے عناوین درج ذیل ہیں ۔

اول ۔ قرآنیات

اس باب کے تحت سات ذیلی ابحاث اور انکے متعلقات کو ذکر کیا گیا ہے ۔

کیا قرآن کی صرف ایک ہی قراءت صحیح ہے ؟

کیا قرآن میزان ہے ؟

کیا سورۃ النصر مکی سورت ہے ؟

قرآن کی معنوی تحریف کے نادر نمونے

سورۃ الفیل کی غلط تاویل

غثاء احوی کی تفسیر و تاویل

کیا کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا ؟

دوم ۔ حدیث و سنت

اس باب کے تحت بطور توضیح چار عنوانات داخل کئے گئے ہیں ۔

شادی شدہ زانی کے لئے سزائے رجم کا انکار

مرتد کی سزائے قتل کا انکار

دیت

پردے کی بابت مغالطہ انگیزیاں

سوم ۔ فقہیات 

اس باب میں بطور مثال ایک ہی مسئلہ شامل کیا گیا ہے  یعنی مسئلہ ء جہاد اور اسکے ممکنہ تمام وہ پہلو جن میں روایتی اور غامدی صاحب کی فکر میں اختلاف پایا جاتاہے ۔

چہارم ، پنجم ۔ ان ابواب میں غامدی صاحب کی فکر میں تضادات کی مثالوں سے نشاندہی کی گئی ہے اور کئی دیگر مخلف فیہ مباحث شامل کی گئی ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب پڑھنے کے لئے درج ذیل آنلائن لنک پر کلک کریں

نوٹ

لنک میں موجود سائٹ پر کتاب کے غیر قانونی اپلوڈ ہونے کی صورت میں غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ سائٹ ذمہ دار نہیں ہو گی ۔

https://books.kitabosunnat.com/Books_Data/710/Ghamdi-Mazhab-Kya-Hai.pdf

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…