مفتی محمد انور اوکاڑوی
قارئین کرام!
اس دور کا سب سے بڑا فتنہ اکابرین سے اعتماد اُٹھا کر دین کی نئی شرح کرنے کا ہے۔ دورِ حاضر میں باقی فتنوں کی طرح ایک جاوید غامدی کا فتنہ ہے۔ اس نے اسلام کی چودہ سو سال سے چلی آنے والی اصطلاحات کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ قرآنِ پاک نے مؤمنین کے راستہ چھوڑنے والے کو جہنمی کہا ہے۔ [النساء]
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ جس طرح بھیڑوں کا دشمن بھیڑیا ہے، اسی طرح انسانوں کا بھیڑیا شیطان ہے۔ جو بکری ریوڑ سے جدا ہوتی ہے اُس پر بھیڑیا حملہ کرتا ہے، جو ریوڑ کے ساتھ رہے وہ بھیڑیے کے حملہ سے بچ جاتی ہے۔ اسی طرح جو جماعت کے ساتھ ملا رہتا ہے، شیطان اس پر حملہ نہیں کرتا، اور جو جماعت سے جدا ہوتا ہے، شیطان اس کو گمراہ کر دیتا ہے۔ [مشکوٰۃ]
اور ایک روایت میں ہے کہ: جو اجماع سے کٹ گیا تو گویا اس نے اسلام کا پٹہ اپنے گلے سے اُتار کر پھینک دیا۔ جاوید احمد غامدی بھی بہت سے اجتماعی مسائل کا انکار کر کے اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو جہنم کا ایندھن بنانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔ اس کے خلاف اجماعی مسائل میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) ایمان بالغیب کی تعریف:
ایمان بالغیب کی تعریف میں غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جا سکتے، انہیں انسان محض منقولی دلائل کی بنا پر مان لے۔” (مقامات: ۱۳۵)
نیز فرماتے ہیں:
“قرآن نے جو حقائق پیش کیے ہیں، ان پر ہمارے ایمان کی بنیاد بھی یہی ہے۔ وہ بیشک حواس سے ماورا ہیں، لیکن عقل سے ماورا نہیں، ہم نے انہیں عقل کی میزان میں تولا ہے اور ان میں رتی بھر کمی نہیں پائی۔ چنانچہ ہم ان پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں عقل و فطرت کے قطعی دلائل کی بنا پر مانتے ہیں۔” (مقامات: ۱۳۶)
اس سے معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کے ہاں ایمان بالغیب کے لیے غائب اشیاء کا بداہتاً عقل میں آنا ضروری ہے، حالانکہ جمہور کے نزدیک غیب وہ چیزیں ہیں جو حواس اور بداہتِ عقل سے خارج ہوں۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:
“لفظِ غیب لغت میں ایسی چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے جو نہ بدیہی طور پر انسان کو معلوم ہوں اور نہ انسان کے حواسِ خمسہ اس کا پتا لگا سکیں۔” (معارف القرآن: ۲۵۲/۱)
نیز فرماتے ہیں:
“قرآن میں لفظِ غیب سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، اور ان کا علم بداہتِ عقل اور حواسِ خمسہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔” (معارف القرآن: ۱۵۲/۱)
(۲) جہاد اور جزیہ:
اسی طرح جہاد اور جزیہ کے بارے میں غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“اس (جہاد و قتال) کی دو صورتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں، ایک کفر کے خلاف جنگ، دوسرے ظلم و عدوان کے خلاف جنگ۔ پہلی صورت کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت سے ہے، جو اس دنیا میں ہمیشہ اس کے برگزیدہ بندوں کے قلم اور انہی ہستیوں کے ذریعے سے روبہِ عمل ہوتا ہے جنہیں وہ رسالت کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ منصب آخری مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ اس قانون کے تحت آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کفر کے خلاف جو جنگیں لڑی ہیں، وہ محض جنگیں نہ تھیں بلکہ خدا کا عذاب تھیں، جو سنتِ الٰہی کے عین مطابق اور ایک فیصلۂ خداوندی کی حیثیت سے پہلے عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ پر اور اس کے بعد جزیرہ نمائے عرب سے باہر کی بعض قوموں پر نازل ہوا۔ آپ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ چنانچہ لوگوں کے خلاف محض ان کے کفر کی وجہ سے جنگ اور اس کے نتیجے میں مفتوحین کو قتل کرنے یا ان پر جزیہ عائد کر کے انہیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق آپ اور آپ کے صحابہ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔” (مقامات: ۱۴۵، ۱۴۶)
حالانکہ امت کا اجماع ہے کہ جہاد اور جزیہ اپنی شرائط کے ساتھ قیامت تک باقی رہیں گے۔
چنانچہ در مختار میں ہے کہ:
“جہاد ابتدا فرضِ کفایہ ہے اگرچہ کفار ہم سے ابتداء نہ کریں۔” (الدر المختار مع الشامیة: ۱۲۲/۴، ۱۳۳)