حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط سوم

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک...

غامدی صاحب اور حدیث

غامدی صاحب اور حدیث

مقدمہ 1: غامدی صاحب اپنا ایک اصول حدیث لکھتے ہیں کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم 'حدیث' کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔" (...

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورنبوی کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں...

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف...

قرآن اور غامدی صاحب

قرآن اور غامدی صاحب

ایک تحریر میں ہم غامدی صاحب کی قرآن کی معنوی تحریف کی چند مثالیں پیش کرچکے مزید ایک تشریح ملاحظہ فرمائیں۔غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں: "موت كى سزا قرآن كى رو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى- اللہ...

رجم کی حد اور غامدی صاحب

رجم کی حد اور غامدی صاحب

اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے  اس پر دس سے زائد صحیح احادیث موجود ہیں  جن سے  واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ آزاد زانیوں پر کوڑوں کی بجائے رجم کی سزانافذ کی۔ ۔ غامدی صاحب اسکے انکاری ہیں ۔ وہ...

مولانا مفتی رب نواز

اعتراض: اجماع امت کو حجت نہ ماننے والوں میں سے ایک نمایاں نام جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا ہے۔ غامدی صاحب مذکورہ آیت و “ومن يشاقق الرسول” سے حجیتِ اجماع پر استدلال کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ اہلِ ایمان کی تعبیرات، آراء اور اجتہادات سے اختلاف نہیں ہو سکتا، یا وہ بالا جماع کوئی نقطۂ نظر اختیار کر لیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر تنقید کی جائے تو آدمی جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں یہ مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص خدا کے بھیجے ہوئے ہادی کی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اپنی الگ پارٹی کھڑی کرنے کی جسارت کرتا ہے تو یہ سراسر کفر ہے، جس کے ساتھ ایمان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔” [اشراق اکتوبر ۲۰۱۱، ص: ۴۰]

جواب: (1) غامدی صاحب کو اعتراف ہے کہ فقہاء کرام نے اس آیت سے حجیتِ اجماع پر استدلال کیا ہے؛ چنانچہ وہ مذکورہ زیرِ بحث آیت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“فقہاء کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ ایمان والوں کا راستہ چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جائے تو آیت میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔” [اشراق، اکتوبر ۲۰۱، ص: ۳]

ہم کہتے ہیں کہ فقہاء سے غامدی صاحب نے اختلاف کیا ہے؛ فقہاء کرام کے نزدیک زیرِ بحث آیت سے حجیتِ اجماع ثابت ہے اور غامدی صاحب کے بقول اس سے اجماع کا حجت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ صاف ظاہر ہے کہ ترجیح تو فقہاء کرام کی بات کو ہے، اس لیے کہ وہ غامدی صاحب کی بہ نسبت قرآن کو بہت زیادہ جانتے ہیں۔

(۲) غامدی صاحب لکھتے ہیں:

“قرآن کے طالبِ علموں کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن کو سمجھتے سمجھاتے اور اس کی کسی آیت کے بارے میں کوئی رائے قائم کرتے وقت کم سے کم تفسیر کی امہاتِ کتب پر ایک نظر ضرور ڈال لیں۔” [میزان: ۵۷] ہم نے الحمد للہ اجماع کی حجیت پر تفسیرِ کی امہاتِ الکتب کے حوالے پچھلے صفحات میں نقل کر دیے ہیں کہ زیرِ بحث آیت سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ غامدی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ دوسروں کو جو نصیحت کر رہے ہیں خود بھی اس پر عمل پیرا ہو جاتے اور تفسیرِ کی امہاتِ الکتب کا حوالہ پیش کرتے کہ اس آیت سے اجماع کی حجیت ثابت نہیں ہوتی۔ رسالہ اشراق میں اجماع کی عدمِ حجیت والے غامدی صاحب کے مضمون کو ہم نے اول سے آخر تک پڑھا ہے، پورے مضمون میں کہیں بھی کسی ایک کتابِ معتبر کا حوالہ اپنی تائید میں وہ نقل نہیں کر سکے۔

اعتراض ۲: غامدی صاحب اس آیت سے جمہور کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ اہلِ ایمان کی تعبیرات، آراء اور اجتہادات سے اختلاف نہیں ہو سکتا یا وہ بالا جماع کوئی نقطۂ نظر اختیار کر لیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر تنقید کی جائے تو آدمی جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں یہ مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص خدا کے بھیجے ہوئے ہادی کی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اپنی ایک الگ پارٹی کھڑی کرنے کی جسارت کرتا ہے تو یہ سراسر کفر ہے جس کے ساتھ ایمان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ (اشراق: اکتوبر ۲۰۱، ص: ۴)

غامدی صاحب کی ساری عبارت کا حاصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی علیحدہ جماعت بنا چکے تھے۔

جواب: ہم یہاں بھی کہتے ہیں کہ غامدی صاحب کو اعتراف ہے کہ آیت کی تفسیر وہی لینی چاہیے جو تفسیرِ کی امہاتِ کتب میں ہو؛ لہٰذا انہیں تفسیرِ کی امہاتِ کتب کا حوالہ دینا چاہیے تھا کہ چونکہ یہ آیت کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہے، لہٰذا اجماع کی حجیت کا اس سے استدلال درست نہیں۔

مفسرین کا مسلمہ اصول ہے کہ آیات کا شانِ نزول اگرچہ کوئی خاص واقعہ یا خاص افراد و قوم کا معاملہ ہوتا ہے، مگر اعتبارِ عمومِ لفظ کا ہوتا ہے۔ (کتاب الام: ۲۳۱٫۵ – اتقان: ۷۴۱ – نیل الاوطار: ۲/۱۲۹ – دلیل الطالب: ۴۱۳ – بدور الاحلہ: ۲۰۹ بحوالہ احسن الکلام: ۱۷۲/۱)

لہٰذا آیت اپنے عموم کے لحاظ سے ان تمام افراد کو شامل ہے جو بھی ساری امت کے اتفاقی مسئلے سے اعراض کرے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پابند ہو۔

حدیث سے اجماع کی حجیت:

علمائے امت نے اجماع کی حجیت کا استدلال جن احادیث مبارکہ سے کیا ہے ان میں سے دو حدیثیں یہاں درج کرتے ہیں:

ا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: “لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي تُقَاتِلُ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.” – صحیج مسلم: ۱۳۳/۲۔ میری امت کا ایک گروہ (قریب) قیامت تک حق کے لیے سر بلندی کے ساتھ قائم کرتا رہے گا۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری: ۱۰۸۷/۲]

اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ قیامت تک ہر زمانے میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی۔ اب اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی ایسے نظریے کو غلط کہتا ہے جس پر اب تک کی ساری امت متفق چلی آئی ہے تو در حقیقت وہ یہ کہتا ہے کہ اب تک کی ساری امت میں کوئی بھی اس بارے میں حق پر قائم نہیں رہ سکا، اور یوں وہ قیامت تک ایک جماعت کے حق پر قائم رہنے کی نبوی پیش گوئی کا انکار کرتا ہے۔ اور اس پیشین گوئی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی ساری امت کسی بات پر متفق ہوگی تو وہ بات حق ہی ہو گی؛ اگر وہ بات حق نہ ہوتی تو حق پر قائم رہنے والی یہ جماعت حقہ باقی امت کے ساتھ اتفاق نہ کرتی، اس جماعتِ حقہ کا باقی امت کے ساتھ مل کر اتفاق کرنا دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے۔

حضرت مولانا مفتی حمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اجماع کی حجیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کی مزید تفصیل اس حدیث سے معلوم ہو جاتی ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت حق پر قائم رہے گی اور انجام کا روہی غالب رہے گی، اس سے بھی واضح ہو گیا کہ پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی۔ (معارف القرآن: ۱۸۵/۱)

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس حدیث میں صراحت ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہر زمانے میں حق پر قائم رہے گی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس امت کا مجموعہ کبھی کسی گمراہی یا غلط کاری پر متفق نہیں ہو سکتا۔ (نوادر الفقہ: ۸۴/۱) زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے بھی مذکورہ حدیث کو اجماع کی حجیت کے دلائل میں ذکر کیا ہے۔ (علمی مقالات: ۸۷/۵)

شارحِ مسلم امام نووی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:

“فِيهِ دَلِيلٌ لِكَوْنِ الإِجْمَاعِ حُجَّةً، وَهُوَ أَصَحُّ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ مِنَ الحَدِيثِ.” (شرح مسلم: ۱۳۳/۲) اس میں اجماع کے حجت ہونے کی دلیل ہے اور حجیتِ اجماع پر جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ان میں سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لَا يَجْمَعُ اللَّهُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا” — اللہ میری امت کو کبھی بھی کسی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (مستدرك حاکم: ۱۱۶/۱)

علمائے امت نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ چونکہ ساری امت کسی گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی اس لیے امت کا اتفاقی مسئلہ حجت ہوگا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…