حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط دوم

Published On October 27, 2025
کیا قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا نہیں ہے؟

کیا قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا نہیں ہے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب اتنی قطعیت کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ سامنے والے نے اگر کچھ پڑھا نہ ہو (اور بالعموم ان کے سامنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں)، تو وہ فورا ہی یقین کرلیتے ہیں، بلکہ ایمان لے آتے ہیں، کہ ایسا ہی ہے۔ اب مثلا ایک صاحب نے ان کی یہ بات پورے یقین کے...

فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق جہلِ مرکب کا شاہ کار

فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق جہلِ مرکب کا شاہ کار

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   غامدی صاحب کا حلقہ اپنے متعلق ہمارے حسنِ ظن کو مسلسل ختم کرنے کے درپے ہے اور اس ضمن میں تازہ ترین کوشش ان کی ترجمانی پر فائز صاحب نے کی ہے جنھوں نے نہ صرف یہ کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق اپنے جہلِ مرکب کا ، بلکہ فقہاے کرام کے متعلق اپنے...

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی جنگیں :اتمامِ حجت ،دفاع یا کچھ اور ؟

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی جنگیں :اتمامِ حجت ،دفاع یا کچھ اور ؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   جناب غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کےنظریۂ "اتمامِ حجت" ،جسے یہ مکتبِ فکر "قانون" کے طور پر پیش کرتا ہے ،کافی تفصیلی بحث ہم کرچکے ہیں ۔اس بحث کا ایک موضوع یہ بھی تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے روم و فارس کے خلاف جو جنگیں لڑیں ، کیا وہ...

دہشت گردی کیا ہے؟

دہشت گردی کیا ہے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   معاصر دنیا میں دہشت گردی (Terrorism) کے لفظ کا استعمال انتہائی کثرت سے ہوتاہے لیکن اس کے مفہوم پر بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ ریاستی نظم کے خلاف یا اس سے آزاد ہو کر کی جانے والی ہر مسلح کوشش کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور اس بنا پر...

قرار دادِ مقاصد اور حسن الیاس

قرار دادِ مقاصد اور حسن الیاس

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے داماد فرماتے ہیں:۔خود کو احمدی کہلوانے والوں کے ماوراے عدالت قتل کا سبب 1984ء کا امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس ہے؛ جس کا سبب 1974ء کی آئینی ترمیم ہے جس نے خود کو احمدی کہلوانے والوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا؛ جس سبب قراردادِ مقاصد ہے جس...

کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ علم کلام ناگزیر علم نہیں اس لئے کہ قرآن تک پہنچنے کے جس استدلال کی متکلمین بات کرتے ہیں وہ قرآن سے ماخوذ نہیں نیز قرآن نے اس بارے میں خود ہی طریقہ بتا دیا ہے۔ مزید یہ کہ علم کلام کا حاصل دلیل حدوث ہے جس کا پہلا مقدمہ (عالم حادث...

مولانا مفتی رب نواز

(۲) وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ تُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا. (نساء: ۱۱۵)

ترجمہ: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہو چکی ہو اور سب مسلمانوں کے (دینی) راستہ کے خلاف چلے گا، ہم اسے جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتا ہے کرنے دیں گے اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخولِ جہنم کا سبب بتایا گیا ہے، ایک مخالفتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفتِ رسول کفر ہے اور وہاں عظیم ہے، دوسرا جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اسے چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہو جائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہِ عظیم ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: “عبد اللہ على الجماعة من شذ شذ في النار” یعنی جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعتِ مسلمین سے علیحدہ ہوگا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔

حضرت امام شافعی نے مذکورہ آیت کو علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرار کیا کہ اجماع کی حجیت پر یہ دلیل کافی نہیں۔” [معارف القرآن: ۵۳۲/۲]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا قرآنی آیت کے تحت لکھتے ہیں: معلوم ہوا کہ امت کے متفقہ فیصلے (اجماع) کی مخالفت گناہِ عظیم ہے۔ [نوادر الفقہ: ۷۶]

زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے اپنے مضمون “اجماع امت حجت ہے” میں مذکورہ بالا قرآنی آیت ذکر کر کے درج ذیل علمائے امت کے اقوال نقل کیے ہیں:

ا۔ ابو اسحاق ابراہیم بن موسی بن محمد الشاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) نے لکھا ہے:

“ثم إن عامة العلماء استدلوا بها على كون الإجماع وأن مخالفه عاصٍ وعلى أن الابتداع في الدين مذموم۔” پھر عام علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اجماع حجت ہے اور اس کا مخالف گناہگار ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ دین میں بدعت مذموم ہے۔

(الموافقات ۳۸/۴، الفصل الرابع في العموم والخصوص: المسألة الثالثة)

محققِ مشهور حسن برہان الدین ابراہیم بن عمر البقاعی (متوفی ۸۸۵ھ) نے اس آیت کی تشریح و تفسیر میں لکھا: “وَہَذِهِ الآيَةُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ” اور یہ آیت دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے۔ (نظم الدرر: ۳۱۸/۲)

حنفی فقیہ ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی (متوفی ۳۷۵ھ) نے آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

“وَفِي الآيَةِ دَلِيلٌ أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ الآنَ مَنْ خَالَفَ الإِجْمَاعَ فَقَدْ خَالَفَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ” اور آیت میں (اس پر) دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے کیونکہ جس نے اجماع کی مخالفت کی تو اس نے سبیلِ المؤمنین کی مخالفت کی۔ (تفسیر سمرقندی، بحرالعلوم: ۳۸۷/۱ – ۳۸۸)

قاضی عبداللہ بن عمر البیضاوی (متوفی ۷۹۱ھ) نے اس آیت کی تشریح میں کہا: “وَالآيَةُ تَدُلُّ عَلَى حُرْمَةِ مُخَالَفَةِ الإِجْتِمَاعِ” — اور آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع کی مخالفت حرام ہے۔ (انوار التنزیل و اسرار التنزیل: ۲۴۳/۱۱) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر ابن کثیر وغیرہ۔ (علمی مقالات: ۷۷/۵)

صلاح الدین یوسف صاحب غیر مقلد مذکورہ آیت “ومن يشاقق الرسول” کے ذیل میں لکھتے ہیں: بعض علماء نے “سبیلِ المؤمنین” سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجتماعِ امت سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجتماعِ امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق۔ یہ دونوں صورتیں اجماع امت ہیں اور دونوں کا انکار یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے، تاہم صحابہ کرام کے اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے یعنی اجتماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے بہت کم مسائل میں کیے گئے ہیں؛ فی الحقیقت ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق ہو۔ تا ہم ایسے اجماعی جو مسائل بھی ہیں ان کا انکار بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتماع کے انکار کی طرح کفر ہے، اس لیے کہ صحیح حدیث میں ہے: “اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ” اور حدیث صحیح ترندی الالبانی نمبر ۱۷۵۹ کے مطابق۔ (تفسیر حواشی: ۲۵۶)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…