حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط دوم

Published On October 27, 2025
(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔ سب سے پہلے...

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح...

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ...

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

ڈاکٹرزاہد مغل علم کلام کے مباحث کو غیر ضروری کہنے اور دلیل حدوث پر اعتراض کرنے کے لئے جناب غامدی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے متعلق دیگر علوم جیسے کہ اصول فقہ، فقہ و تفسیر وغیرہ کے برعکس علم کلام ناگزیر مسائل سے بحث نہیں کرتا اس لئے کہ...

غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب سے جہاد کی فرضیت کے متعلق علماے کرام کے فتوی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے تین صورتیں ذکر کیں:۔ایک یہ کہ جب کامیابی کا یقین ہو، تو جہاد یقینا واجب ہے؛دوسری یہ کہ جب جیتنے کا امکان ہو، تو بھی لڑنا واجب ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نصرت...

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اپنی ملامت کا رخ مسلسل مسلمانوں کی طرف کرنے پر جب غامدی صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ظالموں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے، تو فرماتے ہیں کہ میری مذمت سے کیا ہوتا ہے؟ اور پھر اپنے اس یک رخے پن کےلیے جواز تراشتے ہوئے انبیاے بنی اسرائیل کی مثال دیتے ہیں...

مولانا مفتی رب نواز

(۲) وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ تُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا. (نساء: ۱۱۵)

ترجمہ: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہو چکی ہو اور سب مسلمانوں کے (دینی) راستہ کے خلاف چلے گا، ہم اسے جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتا ہے کرنے دیں گے اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخولِ جہنم کا سبب بتایا گیا ہے، ایک مخالفتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفتِ رسول کفر ہے اور وہاں عظیم ہے، دوسرا جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اسے چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہو جائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہِ عظیم ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: “عبد اللہ على الجماعة من شذ شذ في النار” یعنی جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعتِ مسلمین سے علیحدہ ہوگا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔

حضرت امام شافعی نے مذکورہ آیت کو علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرار کیا کہ اجماع کی حجیت پر یہ دلیل کافی نہیں۔” [معارف القرآن: ۵۳۲/۲]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا قرآنی آیت کے تحت لکھتے ہیں: معلوم ہوا کہ امت کے متفقہ فیصلے (اجماع) کی مخالفت گناہِ عظیم ہے۔ [نوادر الفقہ: ۷۶]

زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے اپنے مضمون “اجماع امت حجت ہے” میں مذکورہ بالا قرآنی آیت ذکر کر کے درج ذیل علمائے امت کے اقوال نقل کیے ہیں:

ا۔ ابو اسحاق ابراہیم بن موسی بن محمد الشاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) نے لکھا ہے:

“ثم إن عامة العلماء استدلوا بها على كون الإجماع وأن مخالفه عاصٍ وعلى أن الابتداع في الدين مذموم۔” پھر عام علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اجماع حجت ہے اور اس کا مخالف گناہگار ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ دین میں بدعت مذموم ہے۔

(الموافقات ۳۸/۴، الفصل الرابع في العموم والخصوص: المسألة الثالثة)

محققِ مشهور حسن برہان الدین ابراہیم بن عمر البقاعی (متوفی ۸۸۵ھ) نے اس آیت کی تشریح و تفسیر میں لکھا: “وَہَذِهِ الآيَةُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ” اور یہ آیت دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے۔ (نظم الدرر: ۳۱۸/۲)

حنفی فقیہ ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی (متوفی ۳۷۵ھ) نے آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

“وَفِي الآيَةِ دَلِيلٌ أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ الآنَ مَنْ خَالَفَ الإِجْمَاعَ فَقَدْ خَالَفَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ” اور آیت میں (اس پر) دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے کیونکہ جس نے اجماع کی مخالفت کی تو اس نے سبیلِ المؤمنین کی مخالفت کی۔ (تفسیر سمرقندی، بحرالعلوم: ۳۸۷/۱ – ۳۸۸)

قاضی عبداللہ بن عمر البیضاوی (متوفی ۷۹۱ھ) نے اس آیت کی تشریح میں کہا: “وَالآيَةُ تَدُلُّ عَلَى حُرْمَةِ مُخَالَفَةِ الإِجْتِمَاعِ” — اور آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع کی مخالفت حرام ہے۔ (انوار التنزیل و اسرار التنزیل: ۲۴۳/۱۱) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر ابن کثیر وغیرہ۔ (علمی مقالات: ۷۷/۵)

صلاح الدین یوسف صاحب غیر مقلد مذکورہ آیت “ومن يشاقق الرسول” کے ذیل میں لکھتے ہیں: بعض علماء نے “سبیلِ المؤمنین” سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجتماعِ امت سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجتماعِ امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق۔ یہ دونوں صورتیں اجماع امت ہیں اور دونوں کا انکار یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے، تاہم صحابہ کرام کے اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے یعنی اجتماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے بہت کم مسائل میں کیے گئے ہیں؛ فی الحقیقت ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق ہو۔ تا ہم ایسے اجماعی جو مسائل بھی ہیں ان کا انکار بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتماع کے انکار کی طرح کفر ہے، اس لیے کہ صحیح حدیث میں ہے: “اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ” اور حدیث صحیح ترندی الالبانی نمبر ۱۷۵۹ کے مطابق۔ (تفسیر حواشی: ۲۵۶)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…