غامدی صاحب کی قرآن فہمی- قسط سوم

Published On September 27, 2025
(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(2) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ  ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...

مفتی ابو لبابہ

(7) غامدی صاحب نے سورۃ الأعلى کی اس آیت: “قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى” کا ترجمہ کیا ہے:
“یقیناً فلاح پائی جس نے پاکیزگی اختیار کی۔” (میزان، ص: 1102)

یہ ترجمہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن آگے چل کر انہوں نے “پاکیزگی اختیار کی” سے مراد “زکوٰۃ الفطر” لینا قرار دیا ہے، حالانکہ اس تفسیر کی نہ کوئی دلیل قرآن سے ہے، نہ حدیث سے اور نہ ہی کسی مفسر نے اس کی تائید کی ہے۔

بلکہ مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مراد ہے کہ “فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، گناہوں سے بچا، اور ایمان و عمل صالح اختیار کیا۔”

(8) اسی طرح غامدی صاحب نے سورۃ المدثر کی آیت: “ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا” کا ترجمہ کیا ہے:
“مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔” (میزان، ص: 1120)

یہ ترجمہ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے، مگر آگے چل کر وہ “وحیداً” کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ “اس کے پاس کوئی مال و اولاد نہ تھی۔” حالانکہ عربی میں “وحید” کے معنی ہیں “اکیلا”، “تنہا”، اور یہ بات پیدائش کی حالت پر دلالت کرتی ہے۔

لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ “اسے میں نے تنہا پیدا کیا، کسی کے ساتھ نہیں۔” اس کو مال و اولاد کی نفی پر محمول کرنا سیاق کے بھی خلاف ہے اور لغت کے بھی۔

(9) اسی طرح سورۃ العلق کی پہلی وحی کو غامدی صاحب نے “اقْرَأْ” کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد “پڑھ کر سنانا” ہے، حالانکہ یہاں “اقْرَأْ” کا مطلب ہے “پڑھنا”، “تلاوت کرنا”، جیسا کہ پوری امت کے مفسرین اور محدثین کا فہم ہے۔

پھر قاعدہ یہ ہے کہ بحث سے متعلق تمام روایات کو ملحوظ رکھ کر الفاظ کا معنی بیان کیا جاتا ہے۔ مگر غامدی صاحب پر تعجب ہے کہ انہوں نے بحث بھی حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کے حوالہ سے کی ہے جو کہ خود غار حراء میں پہلی وحی میں سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کے نزول والی حدیث روایت کرنے والی ہیں۔ اس کو چھوڑ کر اسی بحث سے متعلق روایت کے الفاظ کا ترجمہ کرنے کو اصول سے ناواقفیت نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟

(10) غامدی صاحب نے حضرت ابن عباسؓ کا ارشاد نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:
“حدِّث الناس كل جمعة مرة.”
یعنی: “لوگوں کو ہر جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کیا کرو۔” (میزان، ص: 575)

غامدی صاحب کا “كل جمعة مرة” کا ترجمہ “ہر جمعہ کے دن” کرنا بالکل لفظی ہے، اس لیے کہ اس سے خصوصیت کے ساتھ جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کرنا ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مراد “ہفتے میں ایک مرتبہ” ہے۔

جیسا کہ اگلے جملے میں خود غامدی صاحب نے ترجمہ کیا ہے: “ہفتے میں دو مرتبہ”، جب کہ “فإن أبيت فمرتين” کا ترجمہ ہے “پھر اگر اس سے زیادہ ہو تو ہفتے میں دو مرتبہ۔” تو “كل جمعة مرة” کا ترجمہ بھی “ہفتے میں ایک مرتبہ” ہی ہوگا۔ اس کا ترجمہ “ہر جمعہ کے دن” کرنا بالکل غلط ہے۔


قارئین کرام!

ہم نے غامدی صاحب کی صرف ایک معرکۃ الآراء کتاب سے چند مثالیں پیش کی ہیں جن سے ان کی عربی زبان میں دسترس کو اجاگر کیا ہے تاکہ عوام الناس جان لیں کہ عربی عبارات کا صحیح ترجمہ بھی نہ کر سکنے والے کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر اور اس پر بحث کرنے کی اہلیت رکھتا ہے؟

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ناقلین کے زمرے میں شمار کرنا بھی بددیانتی ہے۔ پھر غامدی صاحب اپنی اس مزعومہ استعداد و صلاحیت کے بل بوتے پر جن ملحدانہ اور گمراہانہ نظریات کا پرچار کر رہے ہیں، ان کے اور ان جیسے دیگر باطل نظریات کا پرچار کرنے والوں کے شر سے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی حفاظت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

حدثنا ، اخبرنا اور  غامدی صاحب کی تنگ نظری وتعصب

حدثنا ، اخبرنا اور غامدی صاحب کی تنگ نظری وتعصب

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اخبارِ آحاد کی ظنیت اور غامدی صاحب

اخبارِ آحاد کی ظنیت اور غامدی صاحب

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE