غامدی صاحب کا فکری مغالطہ (3)

Published On September 21, 2025
(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(2) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ  ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف...

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...

جہانگیر حنیف

شریعت میں یہی چار محرمات ہی اصلاً کیوں زیر بحث ہیں، اس کا جواب غامدی صاحب یہ دیتے ہیں کہ انسانوں کے لیے اِن محرمات کی حرمت کے بارے میں کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنا محض عقل و فطرت کی رہنمائی میں ممکن نہ تھا۔ لہذا شریعت نے اِسے بالصراحت متعین کردیا۔ ان کا یہ دعویٰ بوجوہ غلط ہے اور ہم اس پر کلام کر چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقف کے حق میں قرآن مجید سے ایک دلیل پیش کی ہے۔ جس پر گفتگو کرنا فی الحال مقصود ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے خورونوش کے باب کا آغاز سورہ انعام کی آیت نمبر ١٤٥ سے کیا ہے۔ اس آیت مبارکہ کے مفہوم کو متعین کرنے میں غامدی صاحب صریح غلطی پر ہیں۔ ان کا اخذ کردہ مفہوم آیت کے لفظوں سے کوئی مناسبت رکھتا ہے اور نہ اس کے مدعا سے سرے سے متعلق ہے۔ ان کا استدلال آیت میں عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ کے الفاظ پر مبنی ہے۔ اپنے موقف کے حق میں دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اِن سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، لہٰذا وہ اِس معاملے میں غلطی کر سکتا تھا۔ آیت میں ’عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ‘کے الفاظ اِسی حقیقت پر دلالت کے لیے آئے ہیں۔“
سوال یہ ہے کہ ’عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ‘ کے الفاظ کس ’لغت‘ کے تحت اور ’عربیت‘ کے کون سے ذوق کے مطابق اس ’حقیقت‘ پر دلالت کرتے ہیں؟ ان لفظوں سے یہ کیسا پتا چلتا ہے کہ ان سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، لہٰذا وہ اِس معاملے میں غلطی کر سکتا تھا۔ یہ الفاظ تو محض یہ بتاتے ہیں کہ جن چیزوں کو کھانے والوں نے اپنے لیے حرام کر رکھا تھا، ان کے پاس اِن چیزوں کی حرمت کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ یعنی اِن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار نہیں دیا تھا۔ یہ ان کی اپنی بدعات تھی، جنہیں انھوں نے خدا کا نام لے کر اپنے دین میں شامل کرلیا تھا۔ بالفاظِ دیگر، محرمات کی جو فہرست مشرکین نے بنا رکھی تھی، اس میں بہت کچھ ایسا تھا جس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے محض چار چیزوں کو حرام کیا تھا۔ باقی چیزوں کو حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افتراء باندھنا تھا۔ حلت و حرمت خدائی فیصلے ہیں۔ یہاں انسانوں کو دخل نہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو یہ آیہ مبارکہ انسانی بدعات کا تدارک کرتی ہے اور خدائی اتھارٹی کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے جرم کی شناعت کو واشگاف کرتی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیہ مبارکہ کی ذیل میں رقم کرتے ہیں:
يقول تعالى آمرا عبده ورسوله محمدا ، صلوات الله وسلامه عليه : قل لهؤلاء الذين حرموا ما رزقهم الله افتراء على الله (لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه)
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ جنہوں نے اُس رزق کو جو اللہ نے اُنھیں دیا اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے حرام ٹہرایا، تم اُن سے کہہ دو ”لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه“
لہذا على طاعم يطعمه سے مراد یہ ہے کہ رزق کھانے والوں کے رزق کی حرمت کا فیصلہ صرف خدا کے ہاتھوں میں ہے۔ انسانوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی چیز کی حرمت کا حکم جاری کریں اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کے دین سے منسوب کردیں۔ جن چیزوں کو اُن لوگوں نے حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق حرام نہیں تھی۔ ان میں سے اللہ تعالیٰ نے صرف چار چیزوں کو حرام کیا تھا۔ باقی سب ان کا کذب و افتراء تھا۔ ابن کثیر مزید وضاحت کرتے ہیں:
الغرض من سياق هذه الآية الرد على المشركين الذين ابتدعوا ما ابتدعوه من تحريم المحرمات على أنفسهم بآرائهم الفاسدة من البحيرة والسائبة والوصيلة والحام ونحو ذلك. فأمر-تبارك وتعالى- رسوله أنه لا يجد فيما أوحاه الله إليه أن ذلك محرم، وأن الذي حرمه هو الميتة وما ذكر معها وما عدا ذلك فلم يحرم، وإنما هو عفو مسكوت عنه. فكيف تزعمون أنه حرام؟! ومن أين حرمتموه ولم يحرمه الله-تبارك وتعالى-؟! وعلى هذا فلا ينفى تحريم أشياء أخر فيما بعد هذا. كما جاء النهى عن الحمر الأهلية ولحوم السباع وكل ذي مخلب من الطير».
ترجمہ: ”اس آیت کے لانے کا مقصد مشرکین کی بدعات کی تردید کرنا تھا۔ انھوں نے بہت سے بدعات کو فاسد آراء کی بنیاد پر اختیار کر رکھا تھا۔ جن کی بدولت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ کو اپنے لیے حرام کیے بیٹھے تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ انھیں بتائیں کہ اللہ کی جانب سے جو وحی آئی ہے، اُس میں اِن چیزوں کی حرمت نہیں۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مردار وغیرہ کو حرام قرار دیا ہے۔ ان کے علاوہ کسی چیز کو فی الحال حرام نہیں ٹہرایا۔ ان کے بارے میں معافی کا رویہ اور خاموشی اختیار کی ہے۔ تو پھر تم کیسے ان کو حرام قرار دیتے ہو۔ تم کہاں سے ان کی حرمت کا فیصلہ کرتے ہو، جبکہ اللہ تعالٰی نے انھیں حرام قرار نہیں دیا۔ اس طرح دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے بعد میں حرام قرار دی جانے والی چیزوں کی اِس آیت میں نفی نہیں کی۔ جیسے پالتو گدھے کی حرمت اور درندوں کی حرمت اور چنگال والے پرندوں کی حرمت۔ “
قرطبی اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں لکھتے ہیں:
والمعنى: قل يا محمد لا أجد فيما أوحي إلي محرما إلا هذه الأشياء ، لا ما تحرمونه بشهوتكم . والآية مكية . ولم يكن في الشريعة في ذلك الوقت محرم غير هذه الأشياء ، ثم نزلت سورة ” المائدة ” بالمدينة . وزيد في المحرمات
ترجمہ: ”اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ ”اے محمد تم کہہ دو (لا أجد فيما أوحي إلي محرما إلا هذه الأشياء) میں ان چیزوں کے علاوہ منزل من اللہ وحی میں کسی چیز کو حرام نہیں پاتا۔ اِس وحی میں اُن چیزوں کی حرمت نہیں ہے، جنہیں تم نے اپنی خواہشات کے تحت حرام کر رکھا ہے۔ یہ آیت مکی ہے۔ اس وقت تک شریعت میں ان کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں تھی۔ پھر سورہ مائدہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اور اس میں محرمات میں اضافہ کیا گیا۔“
لہذا مدعائے کلام اصلاً سلبی ہے۔ یعنی جن جانوروں کو تم نے کھانے کے لیے حرام کیا ہے، وہ اس وحی میں حرام نہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ یہ مفہوم اس آیت کے ساتھ بالکل صحیح بیٹھتا یے اور کسی تکلف کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ’انسان کے لیے کچھ سوالات کا جواب دینا مشکل تھا‘، اس آیت کا منشا ہی نہیں اور نہ یہ مفہوم اس آیہ مبارکہ کے لفظوں سے کوئی مناسبت رکھتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی جو وضاحت پیش فرمائی، اس کے بعد اہلِ علم و نظر کے لیے دوسری رائے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی:
قال الإمام الشافعى- لما حرموا ما أحل الله وأحلوا ما حرمه الله وكانوا على المضادة والمحادة جاءت الآية مناقضة لغرضهم، فكأنه قال- سبحانه – لا حلال إلا ما حرمتموه ولا حرام إلا ما أحللتموه، نازلا منزلة من يقول: لا تأكل اليوم حلاوة.
فتقول: لا آكل اليوم إلا الحلاوة، والغرض المضادة لا للنفي والإثبات على الحقيقة. فهو-تبارك وتعالى- لم يقصد حل ما وراء الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به، إذ القصد إثبات التحريم لا إثبات الحل.
ترجمہ: ”جب انھوں نے اُن چیزوں کو حرام ٹہرایا، جنہیں اللہ نے حلال قرار دیا تھا اور اُن چیزوں کو حلال قرار دے دیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام ٹہرایا تھا اور وہ واضح مخالفت اور سرکشی پر اتر آئے، تو یہ آیت نازل ہوئی، جس کا مقصد ان کی بدعات کا تدارک تھا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کوئی چیز حلال نہیں تھی، مگر تم نے حرام ٹہرا دی اور کوئی چیز حرام نہیں تھی، مگر تم نے حلال ٹہرا دی۔ آیت کے الفاظ کی نظیر یوں ہے کہ جیسے کوئی کہے: تم آج میٹھا نہیں کھاؤ گے اور اس کے جواب میں تم کہو کہ میں میٹھے کے سوا کچھ نہیں کھاؤں گا۔ (یعنی میٹھا ضرور کھاؤں گا۔ یہ نہیں کہ صرف میٹھا کھاؤں گا)۔ اس طرح کے جملوں کا حقیقی مقصد نفی یا اثبات نہیں ہوتا، بلکہ یہ صنعت تضاد ہے۔ لہذا مردار، خون اور خنزیر کے گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانوروں کے علاوہ دوسری چیزوں کی حلت پروردگار کا مقصد نہیں تھا۔ مقصودِ کلام حرمت کا اثبات تھا۔ نہ کہ ان چار محرمات کے علاوہ چیزوں کی حلت کا اعلان.“
مفسرینِ کرام کی تفسیر اور امام شافعی کے اس وضاحت کے بعد آئیں، ہم غامدی صاحب کے فہمِ آیت کو دوبارہ دیکھتے ہیں:
”اِن سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، لہٰذا وہ اِس معاملے میں غلطی کر سکتا تھا۔ آیت میں ’عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ‘کے الفاظ اِسی حقیقت پر دلالت کے لیے آئے ہیں۔“
مزید رقم فرماتے ہیں:
اِس معاملے میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔ یعنی اُن میں سے حرام قرار دی ہیں جنھیں لوگ طیبات خیال کرکے کھا سکتے تھے۔
پہلی چیز یہ کہ آیت مبارکہ میں سوالات نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس آیت میں کوئی سوال ہے اور نہ اس آیت کے سیاق میں کوئی سوال موجود ہے۔ یہ سوالات غامدی صاحب کے ذہن میں ہیں اور انھوں نے اسے قرآن مجید کی آیت کے مفہوم میں زبردستی داخل کیا ہے۔ محض انہی کو یہ سوالات سوجھے ہیں۔ ان سوالات کے سوجھنے میں قرآن مجید کی آیات وجہ نہیں بنی۔ خارج از متنِ قرآن کچھ ایسے عوامل ہیں، جو اُنھیں اِن سوالات کی طرف مائل کرتے ہیں۔ دوسری چیز عقل و فطرت پر مردار وغیرہ کی حرمت کا عدم انکشاف بھی اس آیت کا سرے سے موضوع نہیں۔ یہ آیت قطعاً یہ نہیں کہہ رہی کہ عقل و فطرت پر مردار وغیرہ کی حرمت کا انکشاف ہونا چونکہ ناممکن تھا، لہذا ہم تمھیں بتائے دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کی یہ بات بھی غلط ہے کہ یہ حصر حرمتوں کے اردگرد قائم کیا گیا ہے اور اس کا مطلب باقی چیزوں کی حلت ہے۔ قرآن مجید نے صنعت تضاد سے کام لیتے ہوئے، مشرکین کی بدعات کا تدارک کیا ہے اور انھیں یہ بتایا ہے کہ تمھاری محرمات کی فہرست میں سے محض یہ چار چیزوں کی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ قرآن مجید کا مدعا اعلانِ حلت نہیں، بلکہ بدعات پر مبنی حرمتوں کا تدارک ہے۔ کلام فہمی کے فن سے آشنا لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کہ جملے لا آكل اليوم إلا الحلاوة اس بات کا اعلان نہیں ہوتے کہ میٹھے کے علاوہ کچھ نہیں کھاؤں گا۔ یہ تضاد کو قائم کرتے ہیں اور
emphasis
کا کام کرتے ہیں۔
یہی وہ چیز ہے، جسے ابن کثیر رحمہ اللہ نے ”الغرض من سياق هذه الآية الرد على المشركين الذين ابتدعوا ما ابتدعوه من تحريم المحرمات على أنفسهم بآرائهم الفاسدة“ کے الفاظ سے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور جسے قرطبی نے ”قل يا محمد لا أجد فيما أوحي إلي محرما إلا هذه الأشياء ، لا ما تحرمونه بشهوتكم“ کے الفاظ سے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ چناچہ غامدی صاحب کا یہ استدلال کہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ سے قرآن مجید نے پورے حصر کے ساتھ انہی چار چیزوں کی حرمت کو بیان کیا ہے، غلط استخراج ہے۔ یہ معنی قرآن مجید کے الفاظ سے بے اعتنائی، مدعائے کلام سے اعراض اور عربی کلام سے عمومی عدم واقفیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مقصود محرمات کو اِن چار میں محصور کرنا ہرگز نہیں تھا۔ بلکہ مقصود اُن محرمات کا تدارک تھا، جو مشرکین نے خود سے قائم کر رکھی تھی۔ تفسیر وسیط کے مفسر نے ان الفاظ میں قرآن کے حصریہ اسلوب کی معنویت کو بیان کیا ہے:
والآية الكريمة ليس المقصود منها حصر المحرمات في هذه الأربعة وإنما المقصود منها الرد على مزاعم المشركين فيما حرموه بغير علم
التفسیر الوسیط
انما سے قائم ہونے والے حصر کی بھی یہی معنویت ہے کہ مشرکین نے حام، سائبہ اور وصیلہ جیسی محرمات جو اختیار کر رکھی تھی، ان کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ ان کی حرمت خدا کی جانب سے قائم کردہ نہیں تھی، بلکہ مشرکین نے بزعمِ خویش انھیں حرام ٹہرایا۔ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا یہی ہے۔ سورہ مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ-وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(103)
دلچسپ بات یہ ہے کہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ٣ میں ان چاروں محرماتِ طعام کا ذکر ہے ۔ اِن محرماتِ طعام کے ساتھ دوسرے محرمات بھی بیان کیے گئے ہیں، جیسے منخقة اور موقوذة وغیرہ۔ اس آیت میں ما ذبح علی النصب کا بھی اضافہ ہے اور پانسے ڈال کر قسمت معلوم کرنے کی حرمت کا بھی بیان ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس آیہ مبارکہ میں کسی بھی طرح کا حصر نہیں۔ اس آیت کو ’حرمت‘ سے شروع کیا گیا ہے اور حرام کردہ چیزوں کی فہرست میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس آیت کو دیکھیں، تو دو چیزیں نوٹ کرنے کے قابل ہیں۔ ایک اس آیت میں محرمات کی فہرست میں توسیع ہے اور توسیع بھی ایسی کہ محرماتِ طعام کے ساتھ پانسوں سے قسمت معلوم کرنے کی حرمت کو بھی جمع کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اکثر اس طرح کے اسالیب کو اپنے بیانات میں شامل کرتا ہے، تاکہ اس کے بیانات کو منطق کے لگے بندھے اصولوں میں بند کرنا ممکن نہ ہو سکے۔ غامدی صاحب جس طرح احکام خداوندی کو شریعت اور فطرت میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر شریعت کو محدود کرکے اس کی ایک انتہائی محدود و محصور کیٹیگری بناتے ہیں، قرآن مجید کی آیات بینات ان میں بند ہونے سے ابا کرتی ہیں۔ دوسری نوٹ کرنے کے قابل چیز یہ ہے کہ اس آیت میں کوئی بھی حصریہ کلمہ موجود نہیں۔ بالفاظِ دیگر، یہ محرمات کی ایک فہرست کا بیان یے، جو خود جامع و مانع ہے اور نہ جامع و مانع ہونے کی مدعی ہے۔ ان دونوں چیزوں کو ذہن میں رکھیں، تو غامدی صاحب نے جو انما کے لفظ سے استدلال کیا ہے، اس کی قلعی بھی کھل جاتی ہے۔ غامدی صاحب منخقة، موقوذة وغیرہ کو میتہ کے ساتھ جوڑیں گے، تاکہ ان کی ’چار کی فہرست‘ متاثر نہ ہو سکے۔ ہمیں بھی اس پر اعتراض نہیں۔ البتہ پہلا سوال یہ ہے کہ عقل و فطرت میں اتنی صلاحیت کیوں موجود نہ تھی کہ وہ میتہ کی حرمت کو دریافت کرلیتی، اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب غامدی کے پاس موجود نہیں۔ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ اور پھر جب میتہ کی حرمت کے بارے میں بتا بھی دیا جائے، تو موت کیسے واقع ہوئی ہے، عقل و فطرت اس میں پھنس جائے اور جان نہ پائے کہ گلا گھٹنے سے، گر کر اور چوٹ کھا کر مرنے والا جانور بھی مرا ہوا جانور ہی ہوتا ہے۔ یہ کونسی عقل و فطرت ہے؟ یہ کس کی عقل و فطرت ہے؟ کیا کسی بچے کی عقل و فطرت کی بات ہو رہی ہے، جسے پہلے مردار کی حرمت دریافت کرنے میں دقت تھی اور پھر وہ جانور مرا کیسے، گر کر، گلا گھٹنے سے یا چوٹ سے، اب اس ننھے بچے کو معلوم نہیں کہ مرنے کی وجہ جو بھی ہو، مردار کو حرام قرار دینے سے مردار کی حرمت قائم ہو جاتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ جب عقل و فطرت پر سب کچھ چھوڑ دیا گیا تھا، تو پھر مردار کی حرمت کو بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر جب مردار کی حرمت کو متعین کردیا گیا تھا، تو پھر گلا گھٹنے سے مرنے والے جانور، چوٹ کھا کر مرنے والے اور گر کر مرنے والے جانور کی حرمت کو واضح نص میں بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ غامدی صاحب کے بقول عقل و فطرت کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کی حرمت کو حتمی طور پر دریافت کر سکتی ہے۔ لیکن مردار کی حرمت کے صریح نص میں وارد ہونے کے باوجود گلا گھٹنے سے مرنے والے جانور، چوٹ کھا کر مرنے والے اور گر کر مرنے والے جانور کی حرمت کو حتمی طور پر دریافت کرنے سے قاصر تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب کی فکر اغلاط کا پلندہ ہے۔ یہ روایت سے روگردانی نہیں، قرآن مجید کی واضح نصوص سے روگردانی اور ان کے واضح معانی سے اعراض کی کہانی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

غامدی صاحب سے چند سوالات

غامدی صاحب سے چند سوالات

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE