غامدی حلقے سے ایک سوال

Published On March 27, 2026
اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اپنے استاذ امام مولانا اصلاحی کی اتباع میں غامدی صاحب بھی سورۃ العلق کی پہلی 5 آیات کو پہلی وحی نہیں مانتے۔
جن دنوں میرا غامدی صاحب کے پاس آنا جانا تھا، میں نے ان سے پوچھا تھا اور انھوں نے جواب دیا تھا کہ ان کے نزدیک سورۃ الفاتحہ ہی پہلی وحی ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی تفسیر البیان میں آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کی سورتوں کو اس طرح تقسیم مانا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے تمام مراحل تدریج کے ساتھ اس میں سامنے آجاتے ہیں: انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت، براءت و ہجرت اور مابعد ہجرت۔
سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک کی سورتوں کو وہ مرحلۂ انذار کی سورتیں مانتے ہیں۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ الفاتحہ پہلی سورۃ ہے اور سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک مرحلۂ انذار کی سورتیں ہیں (اور باقی سورتیں ان سورتوں کے بعد کی سورتیں ہیں)، تو کیا وہ اس کے قائل ہیں کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الملک کے درمیان کوئی اور سورۃ نازل نہیں ہوئی؟
اس سوال کا جواب ان کی تحریرات میں سے مل جائے، تو بہت بہتر ہے، ورنہ (مجبوراً) ان کے کسی کلپ کا بھی آپ حوالہ دے سکتے ہیں، اگر انھوں نے خصوصاً اس سوال پر کہیں بات کی ہے۔
برسوں پہلے میں نے ان سے پوچھا تھا کہ مرحلۂ انذار سے مراد اگر پہلے تین سال ہیں، تو ان سورتوں کے مباحث تو پہلے تین سالوں کے نہیں معلوم ہوتے۔ انھوں نے ان مراحل کی سالوں میں تقسیم سے گریز کیا تھا۔ بعض سورتوں کے متعلق میں نے خصوصاً کچھ سوالات کیے تھے۔ ان پر ان کے جوابات بھی ذکر کروں گا، لیکن پہلے اس سوال کا جواب مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
از راہِ کرم اس سوال کے جواب میں اپنی تحقیق یا اپنے اندازے پیش کرنے کے بجاے غامدی صاحب ہی کی تحریر (یا تقریر) کا حوالہ دیں۔ بہت شکریہ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…