غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

ڈاکٹر خضر یسین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، خاتم الوحی ہے اور آنجناب علیہ السلام کی ذات، خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کے بعد نہ ایسی وحی ممکن ہے جو انسانیت پر واجب الایمان و العمل ہو اور نہ آنجناب علیہ السلام کے بعد کوئی نبی و رسول ممکن ہے۔ آنجناب علیہ...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل کچھ عرصہ قبل ایک تحریر میں متعدد مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ اصولیین جسے نسخ، تقیید و تخصیص (اصطلاحاً بیان تبدیل و تغییر) کہتے ہیں، قرآن کے محاورے میں وہ سب “بیان” ہی کہلاتا ہے اور اس حوالے سے محترم مولانا اصلاحی صاحب اور محترم جاوید احمد...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے اپنی دینی فکر میں بہت ساری باتیں، خود سے وضع کی ہیں۔ ان کے تصورات درحقیقت مقدمات ہیں، جن سے اپنے من پسند نتائج تک وہ رسائی چاہتے ہیں۔ "قیامِ شھادت" کا تصور درحقیقت ایک اور تصور کی بنیاد ہے۔ اسی طرح نبوت و رسالت کے فرق کا مقدمہ بھی ایک اور...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے بعض دینی تصورات خود سے وضع کئے ہیں یا پھر ان کی تعریف ایسی کی ہے جو خانہ زاد ہے۔ ان تصورات میں "نبوت" اور "رسالت" سب سے نمایاں ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء و رسل دونوں کا فارسی متبادل "پیغمبر" ہے۔ نبی بھی پیغمبر ہے اور رسول بھی پیغمبر ہے۔ مگر...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی کے تصور "سنت" کے متعلق غلط فہمی  پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے اور نہ غلط بیانی ہمارے مقصد کو باریاب کر سکتی ہے۔ اگر غامدی صاحب کے پیش نظر "سنت" منزل من اللہ اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال آنجناب علیہ السلام پر اسی طرح وحی ہوئے ہیں جیسے قرآن مجید ہوا ہے...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط اول)

ڈاکٹر خضر یسین یہ خالصتا علمی انتقادی معروضات ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنی تحریر و تقریر میں جو بیان کیا ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کے موقف کو بیان کرنے میں یا سمجھنے میں غلطی ممکن ہے۔ غامدی صاحب کے متبعین سے توقع کرتا ہوں،...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…