اخبار احاد کے حوالے سے حنفی اور غامدی فہم میں مماثلت واشتراک کا فکری وعلمی مغالطہ

Published On November 26, 2025
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

علی کاظمی

خبر واحد کے زریعہ حکم قرانی کی تخصیص تنسیخ وزیادت کے حنفی منہج وتصور کے حوالہ سے ایک مغالطہ زبان زد عام ہے جس میں ایک بڑی تعداد اھل علم کی بھی مبتلا ہے ، کہ وہ یہ سمجھتے ہیں “غامدی صاحب اور حنفی منہج” میں اس حوالہ سے کوئی اشتراک پایا جاتا ہے اور احناف کاجو منہج ہے خبر واحد کےحوالہ سے غوامد بھی اس سے مماثل کوئی نقطہ نظر رکھتے ہیں ۔
یہ قطعی طور پر ایک بے بنیاد مفروضہ ومغالطہ ہے ۔
اس ضمن میں حنفی منہج یہ ہے کہ ، وہ “روایات_ آحاد ” جو بظاہر قران کے معارض ومخالف ھوں احناف ان کو یکسر مسترد نہیں کرتے بلکہ ان اخبار آحاد کی تقسیم ثلاثہ (مشہور ومستفیض عزیز، غریب) کے مطابق ان سے متعلق الگ الگ رویہ اپناتے ہیں اور ان کے ساتھ تعمل کے حوالے سے وہ تقسیم کے قائل ہیں۔
چنانچہ خبر مشہور وعزیز کے زریعہ وہ زیادت ، تنسیخ، اور تخصیص کے قائل ہیں اور جہاں کوئی غریب ونادر روایت ھو تو وہاں وہ اس روایت کو ترک کردیتے ہیں اس دائرے کی حد تک ۔
چنانچہ عمار صاحب اپنی کتاب قران وسنت کا باھمی تعلق میں لکھتے ہیں :
“آئمہ احناف معروف ومشہوراحادیث اور شاذ وغریب روایات میں فرق ملحوظ رکھتےتھے ۔ چنانچہ پہلی قسم کی احادیث سے قران کے احکام میں شامل کی جانے والی زیادات و تخصیصات پر کسی قسم کا سوال اٹھائے بغیر وہ انہیں قبول کرتے تھے ، جب کہ تعارض کا سوال وہ اس صورت میں اٹھاتےجب ظاہر قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف روایت ھو۔
قران کے حکم میں کسی اضافہ کو قبول کرنے کے لیے حدیث کے مشہور ومعروف ھونے کی شرط امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف ، دونوں سے منقول ہے ”
قران وسنت کا باھمی تعلق ص: 168/9
امام ابو حنیفہ سے مروی ہے : ” میں اس وقت تک مسح علی الخفین کا قائل نہیں ھوا جب تک اس کےمتعلق سورج سے زیادہ روشن روایات میرے علم میں نہیں اگئی ”
امام ابو یسف سے منقول ہے :
“قران کے حکم میں سنت کے زریعہ تبدیلی کرنا صرف اسی صورت جائز ہے جب سنت اس طرح شہرت کے ساتھ وارد ھوئی ھو ، جیسے مسح علی الخفین میں وارد ھوئی ہے
ص: 169
اوپر درج تفصیلات کی روشنی میں حنفی منہج،اخبار آحاد کے حوالہ سے واضح ہے ۔
جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب اخبار آحاد یا مطلق احادیث کے متعلق کیا سوچ اور رائے رکھتے ہیں عمار صاحب کے بقول :
“اس نکتہ کو غامدی صاحب یوں تعبیر کرتے ہیں کہ احادیث سے ” دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ھوتا ” اور یہ چیز حدیث کے دائرے میں آتی ہی نہیں کہ وہ دین میں کسی نئے ( زیادت ، اضافہ ، تخصیص ۔ علی ) حکم کا ماخذ بن سکے “
اس تصریح سے یہ بات واضح ھوتی ہے غامدی صاحب مجموعی طور پر احادیث( قطع نظر کسی بھی تقسیم صحت کے متواتر ، مشہور ، عزیز ، غریب ) کو کسی نئے حکم کے لیے معیار بننے کا اہل ھی نہیں مانتے ۔
اور یہ چیز احناف کے نقطہ نظر سے ایک سو اسی ڈگری کے فرق پر مبنی ہے۔
لیکن یہاں عمار صاحب نے ایک چلاکی اور کی کہ غامدی صاحب کا “تراث سے رابطہ ٹوٹنے نہ پائے ” اور برقرار رہے ، یا تکلفا رہنے کے لیے انہوں نے امام شاطبی کی گود میں چھلانگ لگا دی کہ غامدی صاحب کا موقف امام شاطبی کے موافق ہے اس مرحلہ پر ۔ لیکن یہ محض تکلف ہے ، یہ چیز عمار صاحب کی غامدی صاحب کی مین سٹریمنگ برقرار رکھنے اور پھر ان کے زریعہ خود کو انٹینٹ رکھنے کے لیے کی گئی ایک چلاکی ہے۔
احادیث کے رد اور اور ان سے بے اعتنائی کے حوالہ سے غامدی صاحب کی کوئی کلاسیکل مماثلت اگر کسی گروہ کے ساتھ پائی جاتی ہے تو وہ گروہ صرف خوارج کا ہے ۔
خوارج جس طرح اور جس تعداد میں احادیث کو زیادت علی القران قرار دے کر ناقابل التفات سمجھتے ہیں غامدی صاحب بعینہ اس منھج پر کھڑے ہیں اور اس سے بڑھ کر حدیث سے بے اعتنائی کے مرتکب ہیں ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE