اخبار احاد کے حوالے سے حنفی اور غامدی فہم میں مماثلت واشتراک کا فکری وعلمی مغالطہ

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے بعض دینی تصورات خود سے وضع کئے ہیں یا پھر ان کی تعریف ایسی کی ہے جو خانہ زاد ہے۔ ان تصورات میں "نبوت" اور "رسالت" سب سے نمایاں ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء و رسل دونوں کا فارسی متبادل "پیغمبر" ہے۔ نبی بھی پیغمبر ہے اور رسول بھی پیغمبر ہے۔ مگر...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی کے تصور "سنت" کے متعلق غلط فہمی  پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے اور نہ غلط بیانی ہمارے مقصد کو باریاب کر سکتی ہے۔ اگر غامدی صاحب کے پیش نظر "سنت" منزل من اللہ اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال آنجناب علیہ السلام پر اسی طرح وحی ہوئے ہیں جیسے قرآن مجید ہوا ہے...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط اول)

ڈاکٹر خضر یسین یہ خالصتا علمی انتقادی معروضات ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنی تحریر و تقریر میں جو بیان کیا ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کے موقف کو بیان کرنے میں یا سمجھنے میں غلطی ممکن ہے۔ غامدی صاحب کے متبعین سے توقع کرتا ہوں،...

جناب جاوید احمد غامدی کی  دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

جناب جاوید احمد غامدی کی دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

 ڈاکٹر سید متین احمد شاہ بیسویں صدی میں مسلم دنیا کی سیاسی بالادستی کے اختتام اور نوآبادیاتی نظام کی تشکیل کے بعد جہاں ہماری سیاسی اور مغرب کے ساتھ تعامل کی پالیسیوں پر عملی فرق پڑا ، وہاں ہماری دینی فکر میں بھی دور رس تبدیلیاں آئیں۔دینی سیاسی فکر میں سب سے بڑی تبدیلی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی کےاس کلیہ پرہم نےمختصر بحث گذشتہ مضمون میں کی تھی ۔مگر احبابِ کرام اس کو تازہ کرنے کے لیے ذرا جناب غامدی کی عبارت کا وہ ٹکڑا ایک بار پھر دیکھ لیں وہ لکھتے ہیں ۔"پہلی ( بات) یہ کہ قران کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کے خداکا وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 9)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے دوسری ایک ایسی بات لکھی ہے کہ جس کو ہم جیسے گناہ گار بندوں کو بھی کہنے سے ڈرلگتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ،، یہاں تک کہ خداکا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ (قران) نازل ہواہے ، اس کےکسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اس میں کوئی ترمیم وتغیرنہیں کرسکتا ۔ پتہ...

علی کاظمی

خبر واحد کے زریعہ حکم قرانی کی تخصیص تنسیخ وزیادت کے حنفی منہج وتصور کے حوالہ سے ایک مغالطہ زبان زد عام ہے جس میں ایک بڑی تعداد اھل علم کی بھی مبتلا ہے ، کہ وہ یہ سمجھتے ہیں “غامدی صاحب اور حنفی منہج” میں اس حوالہ سے کوئی اشتراک پایا جاتا ہے اور احناف کاجو منہج ہے خبر واحد کےحوالہ سے غوامد بھی اس سے مماثل کوئی نقطہ نظر رکھتے ہیں ۔
یہ قطعی طور پر ایک بے بنیاد مفروضہ ومغالطہ ہے ۔
اس ضمن میں حنفی منہج یہ ہے کہ ، وہ “روایات_ آحاد ” جو بظاہر قران کے معارض ومخالف ھوں احناف ان کو یکسر مسترد نہیں کرتے بلکہ ان اخبار آحاد کی تقسیم ثلاثہ (مشہور ومستفیض عزیز، غریب) کے مطابق ان سے متعلق الگ الگ رویہ اپناتے ہیں اور ان کے ساتھ تعمل کے حوالے سے وہ تقسیم کے قائل ہیں۔
چنانچہ خبر مشہور وعزیز کے زریعہ وہ زیادت ، تنسیخ، اور تخصیص کے قائل ہیں اور جہاں کوئی غریب ونادر روایت ھو تو وہاں وہ اس روایت کو ترک کردیتے ہیں اس دائرے کی حد تک ۔
چنانچہ عمار صاحب اپنی کتاب قران وسنت کا باھمی تعلق میں لکھتے ہیں :
“آئمہ احناف معروف ومشہوراحادیث اور شاذ وغریب روایات میں فرق ملحوظ رکھتےتھے ۔ چنانچہ پہلی قسم کی احادیث سے قران کے احکام میں شامل کی جانے والی زیادات و تخصیصات پر کسی قسم کا سوال اٹھائے بغیر وہ انہیں قبول کرتے تھے ، جب کہ تعارض کا سوال وہ اس صورت میں اٹھاتےجب ظاہر قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف روایت ھو۔
قران کے حکم میں کسی اضافہ کو قبول کرنے کے لیے حدیث کے مشہور ومعروف ھونے کی شرط امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف ، دونوں سے منقول ہے ”
قران وسنت کا باھمی تعلق ص: 168/9
امام ابو حنیفہ سے مروی ہے : ” میں اس وقت تک مسح علی الخفین کا قائل نہیں ھوا جب تک اس کےمتعلق سورج سے زیادہ روشن روایات میرے علم میں نہیں اگئی ”
امام ابو یسف سے منقول ہے :
“قران کے حکم میں سنت کے زریعہ تبدیلی کرنا صرف اسی صورت جائز ہے جب سنت اس طرح شہرت کے ساتھ وارد ھوئی ھو ، جیسے مسح علی الخفین میں وارد ھوئی ہے
ص: 169
اوپر درج تفصیلات کی روشنی میں حنفی منہج،اخبار آحاد کے حوالہ سے واضح ہے ۔
جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب اخبار آحاد یا مطلق احادیث کے متعلق کیا سوچ اور رائے رکھتے ہیں عمار صاحب کے بقول :
“اس نکتہ کو غامدی صاحب یوں تعبیر کرتے ہیں کہ احادیث سے ” دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ھوتا ” اور یہ چیز حدیث کے دائرے میں آتی ہی نہیں کہ وہ دین میں کسی نئے ( زیادت ، اضافہ ، تخصیص ۔ علی ) حکم کا ماخذ بن سکے “
اس تصریح سے یہ بات واضح ھوتی ہے غامدی صاحب مجموعی طور پر احادیث( قطع نظر کسی بھی تقسیم صحت کے متواتر ، مشہور ، عزیز ، غریب ) کو کسی نئے حکم کے لیے معیار بننے کا اہل ھی نہیں مانتے ۔
اور یہ چیز احناف کے نقطہ نظر سے ایک سو اسی ڈگری کے فرق پر مبنی ہے۔
لیکن یہاں عمار صاحب نے ایک چلاکی اور کی کہ غامدی صاحب کا “تراث سے رابطہ ٹوٹنے نہ پائے ” اور برقرار رہے ، یا تکلفا رہنے کے لیے انہوں نے امام شاطبی کی گود میں چھلانگ لگا دی کہ غامدی صاحب کا موقف امام شاطبی کے موافق ہے اس مرحلہ پر ۔ لیکن یہ محض تکلف ہے ، یہ چیز عمار صاحب کی غامدی صاحب کی مین سٹریمنگ برقرار رکھنے اور پھر ان کے زریعہ خود کو انٹینٹ رکھنے کے لیے کی گئی ایک چلاکی ہے۔
احادیث کے رد اور اور ان سے بے اعتنائی کے حوالہ سے غامدی صاحب کی کوئی کلاسیکل مماثلت اگر کسی گروہ کے ساتھ پائی جاتی ہے تو وہ گروہ صرف خوارج کا ہے ۔
خوارج جس طرح اور جس تعداد میں احادیث کو زیادت علی القران قرار دے کر ناقابل التفات سمجھتے ہیں غامدی صاحب بعینہ اس منھج پر کھڑے ہیں اور اس سے بڑھ کر حدیث سے بے اعتنائی کے مرتکب ہیں ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…