اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

Published On November 26, 2025
اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 3

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

علی کاظمی

علم النبی کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کے پیچھے دراصلا س فکری رجحان کی نمائندگی ہے جو حدیث کے کلاسیکی منہج ومفہوم سے الگ ایک نئی تعبیر قائم کرنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔
حدیث ایک باقاعدہ اصطلاحی و فنی مفہوم رکھتی ہے، جو محدثین کے متفقہ اصولوں کے تحت منضبط ہوئی اور جس کے ساتھ اس کا سب سے اساسی پہلو اس کی حجیت ناگزیر طور پر وابستہ ہے ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو “علم النبی” کے نام بیان کیا جاتا ہے تو یہ تعبیر اپنے اندر ایک ایسا مفہومی وروایتی انحراف رکھتی ہے جو حدیث کے اس منہجی نظام سے کلی طور پر مغائرت رکھتا ہے ۔
علم ایک توصیفی اصطلاح ہے، جب کہ “حدیث” ایک تشریعی و الزامی اصطلاح ہے ،
لہٰذا “علم النبی” کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حجیت کو غیر محسوس طور پر کمزور کر دیا جاتا ہے ۔
اس تعبیر کا مقصد اس رجحان کو پروان چڑھانا ہے کہ نبی کریم ص کے اقوال کو محض فکری یا روحانی تعبیر سمجھا جائے، نہ
کہ دین و شریعت کا ماخذ ۔
تاریخی طور پر اس رجحان کی جڑیں ان خارجیانہ علمیات میں پیوست ہیں جن میں “قرآن مرکزیت” یا حدیثی روایت سے فکری احتراز کا تصور ابھرا، اور جن میں سنت کو قابل احترام تو مانا گیا مگر حدیثی روایتوں کو اس کا لازمی ماخذ تسلیم نہیں کیاجاتا۔
یہ ایک علمی قضیہ ومسلمہ بھی ہے کہ دینی اصطلاحات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے نظام علم کے حامل مفاہیم ہوتے ہیں ان کی تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ منہجی و اصولی تبدیلی کو جنم دیتی ہے ۔
چنانچہ علم النبی” کی تعبیر محدثانہ اصولوں سے آزادی وانحراف کے اس تصور پر قائم ہے جو علم حدیث کے تسلسل میں ایک فکری و منہجی انقطاع پیدا کرتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE