حدیث کی ماخذی حیثیت مشکوک بنانے کی ایک خطرناک واردات

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم کوشش کریں گےکہ مکتبِ غامدی کے  خود ساختہ قرانی " قانونِ اتمامِ حجت" پر بات کرنے سے پہلے اپنے احباب کو دو قرانی اصول سمجھا سکیں ۔ ان دواصولوں میں سے پہلا قرانی اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس قوم کو بھی ہلاک اورنیست ونابود کیاہے  تواس کی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 75)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم اس" قانونِ اتمام حجت " کو بیان کریں گے جس کا تذکرہ جگہ جگہ یہ حضرات کرتے ہیں ۔ جناب غامدی اور ان کےاستاد امام  نے اس قانون کی تفصیلات اپنی کتابوں میں پیش کردی ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ قانون ہی غلط ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بعد میں کرلیں گے ۔...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 74)

مولانا واصل واسطی جب ہم نے سورہِ توبہ کی آیات (5 اور11) کے اس استعمال کی اصل وجہ بیان کردی ہے ۔ تو اب اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ہم ان آیات میں دیگر اہلِ علم کی توجیہات کو بھی پیش کریں ۔ مگر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ احباب سمجھ جائیں گے کہ سارے اہلِ علم مذہبِ غامدی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 73)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نےاوپر زکوة کے ساتھ نماز کو بھی اسلام کے لیے شرط قراردیا ہے ۔ توجس طرح زکوة کے متعلق ہم نےاوپر سوال قائم کیا تھاکہ زکوة کےلیے تو نصاب اور حولانِ حوال شرط ہے اس کو کس طرح معلوم کیا جائے گا ؟  محض مسلمان ہونے پر تو زکوة لازم نہیں آتی ہے ؟ تو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 72)

مولانا واصل واسطی وہ سورتِ توبہ کی آیات (5۔ 11) کونقل کرنے کےبعد لکحتے ہیں " یہ دونوں آیتیں سورہِ توبہ میں ایک ہی سلسلہِ بیان میں آئی ہیں۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ حج کے موقع پر یہ اعلان کردیاجائے کہ مشرکینِ عرب میں جولوگ یہ تین شرطیں پوری کریں ۔ وہ دین میں تمہارے بھائی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 71)

مولانا واصل واسطی اس تحریر میں ہم  دو شبہات کا  ان شاءاللہ تفصیلی ذکرکریں گے جنہیں یہ لوگ بارباراچھالتے ہیں ۔گویا قولِ غالب پرعمل کرتے ہیں۔  کہ ۔۔  یک حرفِ کاشکے است کہ صد جا نوشتہ ایم ۔۔ ان میں سے ایک کو یہ لوگ" شہریت کے شرائط"  سے مسمی کرتے ہیں ۔ اور دوسرے کو...

نور الرحمن ہزاروی

کتاب “علم النبی ﷺ” میں حدیث نبوی کو “علم” کے عنوان سے پیش کرنا محض لفظی تنویع نہیں بلکہ ایک منہجی اور فکری انحراف کا مظہر ہے۔
جاوید احمد غامدی صاحب اس تعبیر کے ذریعے دراصل حدیث کو اس کے تشریعی مقام سے ہٹا کر غیر ماخذی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا ماخذ صرف قرآن اور سنتِ متواترہ عملی ہے، جبکہ احادیث کو وہ نبی ﷺ کے فہم و علم کی صورت میں محض ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت دیتے ہیں، جن سے دین کی کوئی نئی یا مستقل تشریع ثابت نہیں ہوتی۔
 یہ زاویۂ نظر علمی اعتبار سے نہ صرف ناقص ہے بلکہ اصولِ تشریع کے مسلمہ مبادی کے خلاف بھی۔
اہلِ علم کے نزدیک دین کے مصادر صرف وہ نہیں جو متواتر عمل سے منتقل ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقاریر—جن میں تشریعی پہلو پایا جائے، وہ نسخ سے محفوظ ہوں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ وارد نہ ہوئی ہو—وہ سب ماخذِ دین میں داخل ہیں۔
یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد قرآن کریم نے خود رکھی:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
اور
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
 ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا ہر قول، فعل یا تقریر — اگر وہ تشریعی نوعیت رکھتا ہے — دین کا حجت ماخذ ہے، خواہ وہ بطریق آحاد منقول ہو یا تواتر سے۔
 پس “علم النبی ﷺ” کی تعبیر درحقیقت ایک فکری تدبیر ہے جس کے ذریعے سنت اور حدیث کے مابین ایک غیر حقیقی خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے، تاکہ سنت (عملی متواترہ) کو دین کا واحد عملی ماخذ قرار دے کر حدیث کی تشریعی حیثیت کو ثانوی یا تاریخی درجے تک محدود کر دیا جائے۔
 یہ طرزِ فکر دراصل حجیتِ حدیث پر ایک جدید اسلوب میں وارد ہونے والا قدیم اعتراض ہے، جس کی جڑیں عقل‌گرایانہ تاویلات اور محدثین کے مسلمہ مناہج سے انحراف میں پیوست ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…