حسن الیاس صاحب کا غامدی صاحب کے نظریہ حدیث پر اقرار

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 13)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 13)

مولانا واصل واسطی ہم نے گذشتہ پوسٹ میں قران کے قطعی الدلالة ہونے کی طرف اشارہ کیا تھا ، کہ قران کی تمام آیات اپنے مفہوم میں قطعی الدلالة نہیں ہیں ، بعض الفاظ ، اسالیب اور تراکیب ظنی الدلالة بھی ہوتے ہیں ، لیکن جناب غامدی قران کی تمام آیات اور تمام کلمات کو قطعی...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب قرآن مجید کو ہدایت کے بجائے دعوت مانتے ہیں، نہیں صرف دعوت ہی نہیں بلکہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگزشت انذار کا عنوان دیتے ہیں۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مابعد دور رسالت میں قرآن مجید کی حیثیت الوہی ہدایت کے بجائے، نبی صلی اللہ علیہ...

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل اس پر ہم پہلے بھی روشنی ڈال چکے ہیں، مزید وضاحت کی کوشش کرتے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کا فرمایا ہے کہ تبیین کا مطلب کلام کے اس فحوی کو بیان کرنا ہے جو ابتدا ہی سے کلام میں موجود ہو۔ کلام کے وجود میں آجانے کے بعد کیا جانے والا کسی بھی قسم کا تغیر تبیین نہیں...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

ڈاکٹر خضر یسین حدیث کے متعلق غامدی صاحب کا موقف کسی اصول پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ حدیث کی فنی حیثیت متعین کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ حدیث کا مدار اعتبار "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" ہے، نہ کہ "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 13)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے یہ بات تولکھی ہے کہ ،، تخصیص وتحدیدِ قران کسی قسم کی وحی سے نہیں ہوسکتی ، اورنہ پیغمبر ہی اس میں کوئی ترمیم وتغیرکرسکتاہے (میزان ص 24) مگر تخصیص اورنسخ میں کوئی فرق وہ بیان نہیں کرتے ہیں حالانکہ اہلِ علم دونوں کے درمیان بہت سے فروق بیان...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہفتم)

ڈاکٹر خضر یسین قرآن مجید کے متعلق غامدی صاحب کی تحریر و تقریر سے یہ تاثر لئے بغیر، آپ نہیں رہ سکتے کہ وہ کسی ادبی کتاب کے متعلق اپنی انتقادی تحسین بیان کر رہے ہیں۔ الوہی ہدایت کے مقابل، ہدایت وصول کرنے والے انسان کا طرزعمل اور احساس و تاثر ایک نقاد کا کبھی نہیں ہوتا۔...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں پر انکار حجیت حدیث کا فتوی چار وجوہ سے لگایا جاتا ہے:
1) قران کے مجمل کا بیان تفسیر نہ ماننا، یعنی ہم قرآن میں کسی حکم کو سنت و حدیث کے بیان کا محتاج نہیں مانتے
2) عام کی تخصیص نہ ماننا، یعنی ہمارے نزدیک حدیث میں مذکور قرآنی احکام کی سب تخصیصات لفظی و عقلی مضمرات کے اطلاقات کا معاملہ ہوتا ہے
3) بیان نسخ، یعنی ہم نسخ کو بیان نہیں مانتے اور نہ ہی نبیﷺ کی احادیث سے قرآنی حکم کے نسخ کے قائل ہیں
4) حدیث کے اجماعی فہم سے اختلاف نہیں ہونا چاہئے، جبکہ ہم نے بعض امور میں اختلاف کرلیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حدیث سے ان چار چیزوں کو ماننا حدیث کو حجت ماننے کے لئے ضروری ہے تو ہمیں قبول ہے کہ ہم منکر حدیث ہیں۔
ان کی اس ویڈیو سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود ہی مان لیا ہے کہ یہ حضرات حدیث کے مسئلے میں اصولیین امت کے طریقے سے باہر ہیں نیز غامدی صاحب نے کتاب “مقامات” میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے جواب میں جو یہ کہا کہ سنت پر میرے موقف اور علمائے امت کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں، تو وہ ایک غلط دعوی تھا۔ الحمد للہ ہماری تحریروں اور ویڈیوز میں جو نقد ان کے نظریہ حدیث سے متعلق ڈویلپ کیا گیا، اور جو مفصلاً ان شاء اللہ عنقریب کتاب کی صورت بھی منظر عام پر آجائے گا، اس کا فی الفور یہ فائدہ ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے اقرار کرلیا ہے کہ جسے یہ لوگ “شرح و وضاحت” کہتے ہیں یہ وہ چیز نہیں ہے جسے علمائے اصول بیان کی بحث میں بیان (بنائی) کہتے آئے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس اقرار کے بعد ان سب طویل توجیہات کا کیا بنے گا جو غامدی صاحب نے مفسرین و اصولیین کی کتابوں کی عبارات کو “اظہار الشئی” و “اظہار ما فی الشئی” پر چسپاں کرنے کے واسطے استعمال کرنے کے لئے کیں؟ ہم یہی تو بتاتے آرہے تھے کہ جب آپ کا اصولی موقف ہی الگ ہے تو کسی دوسرے اصولی موقف کی عبارات سے استدلال کرنے کا نتیجہ خلط مبحث ہی ہوگا اور یہی جناب غامدی صاحب کرتے آئے ہیں۔ نیز جناب خورشید ندیم صاحب اور اس فکر سے متاثر دیگر کئی لوگوں کے لئے بھی یہ مقام غور و فکر ہے جن کے خیال میں ہمارے نقد کا پیراڈائیم ہی الگ ہوگیا ہے جو غامدی صاحب سے متعلق نہیں یا جو یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ غامدی صاحب بیان تفسیر، تخصیص و نسخ بذریعہ حدیث کا صرف نام استعمال نہیں کرتے اگرچہ ان کے قائل ہیں!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…