غامدی صاحب کا حدیث پراجیکٹ

Published On December 11, 2025
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ایک اور مغالطہ انگیزی اور علماپر طعنہ زنی  غامدی صاحب فرماتے ہیں ’’الائمۃ من قریش مشہور روایت ہے؛ (مسند احمد،رقم 11898 ) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے ہمارے علما اس غلط فہمی میں مبتلاہو گئے کہ مسلما نوں کے حکم ران صرف قریش میں سے ہوں گے، دراں...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہفتم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف روایات رجم میں جمع و تطبیق کے بعدباہم کوئی تعارض نہیں رہتا روایات رجم کے اس تبصرۂ نا مر ضیہ میں البتہ دو چیزوں نہایت قابل غور ہیں جو ان فی ذلک لعبرۃ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید کی مصداق ہیں ایک یہ کہ رجم کی کئی حدیثوں میں اس حد کو...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ششم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف آیت محاربہ کی رْو سے عہد رسالت کے مجرم سزا کے نہیں ،معافی کے مستحق تھے فراہی گروہ کی سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ محاربہ کی سزا کی بابت تو ا للہ نے فرمایا ہے کہ فساد فی الا رض کے یہ مجرم اگر قابو میں آنے سے پہلے ہی تائب ہو جائیں توان کی...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط پنجم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اہل اسلام کہتے ہیں کہ قرآن میں زانی اور زانیہ کی جو سزا(سو کوڑے ) بیان ہوئی ہے، حدیث رسول کی رْو سے وہ کنواروں کی سزا ہے اورشادہ شدہ زانیوں کی سزا رجم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے اور اس کے مطابق آپ نے رجم کی سزا دی...

سیدہ عائشہ کا نکاح : غامدی صاحب کے سوال کا جواب

سیدہ عائشہ کا نکاح : غامدی صاحب کے سوال کا جواب

حافظ زبیر علی زئی   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی تجویز کس نے پیش کی تھی، اس کے بارے میں جاوید احمد غامدی صاحب نے لکھا ہے: ’’روایات بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ کے نکاح کی تجویز ایک صحابیہ حضرت...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسطِ چہارم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف حد رجم اللہ کا حکم ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو واضح الفاظ میں اپنے پیغمبر کے بارے میں فرمایا ہے: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ: 44۔46) ’’اگر...

گل رحمان ہمدرد

غامدی صاحب نے جو حدیث پروجیکٹ شروع کیا ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کام ہے اور انتہائ لائق تحسین ہے ۔یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس پروجیکٹ میں ایک مسئلہ ہے۔اور وہ یہ کہ اس کا مقدمہ یہ ہے کہ احادیث کو قرآن کی بنیاد پر پرکھا جائے۔اُدھر قرآن کا فہم مختلف مکاتب ہائے فکر کے ہاں مختلف ہے۔ آپکی قرآن کی تفہیم بدل جائے تو آپکی احادیث کی سلیکشن بھی بدل جائے گی۔

ایک شخص صرف اپنے فہمِ قرآن کی بنیاد پر کئے گئے اپنی سلیکشن کو علم النبی کیسے قرار دے سکتا ہے؟ ۔کل کوئی دوسرا عالم ایسا کرے تو وہ بھی علم النبی ہوگا اگرچہ اسکی سلیکشن غامدی صاحب کی سلیکشن کے برعکس ہو؟۔ کل کوکوئی مفسر اپنی تفسیر کو علم النبی قرار دے دے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا متضاد تعبیراتِ قرآن میں سے ایک شخص اپنی تعبیر کو علم النبی قراردے تو یہ درست اقدام ہوگا؟

وہاں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ قرآن تو قطعی الدلالہ ہے لیکن ہم اپنی تفہیمِ قرآن کے بارے میں قطیعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہی حقیقی فہم ہے۔ فہم ظنی ہے تو احادیث کے باب میں قطعیت کے ساتھ ان کے علم النبی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے؟ فہمِ قرآن ظنی ہے تو اس کی بنیاد پر جن احادیث کو صحیح قرار دیا جائے وہ قطعی کیسے ہوسکتی ہیں؟ وہ بھی ظنی ہیں ۔ اپنے ظنی علم کی بنیاد پر کئے گئے سلیکشن کو قطعی طور پر علم النبی قراردینا بہت پرابلیمیٹک بات ہے۔

حدیث پروجیکٹ تو ایک درست کام ہے۔ لیکن اس کا نام
پرابلیمٹک ہے۔ اس نام میں قطیعیت کی بو ہے جو گروہی تعصب پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی اور مناسب نام رکھا جاتا؟
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی تمام احادیث سنی علمِ حدیث سے ماخوذ ہیں۔ شیعہ علم حدیث اور اباضی علم حدیث کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ اپروچ خالصتاََ فرقہ وارانہ اپروچ ہے۔ جدید عہد کے ایک بڑے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسطرح کی فرقہ وارانہ اپروچ پر یقین رکھے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…