غامدی صاحب کا حدیث پراجیکٹ

Published On December 11, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے سنت کے متعلق رقم طراز ہے کہ " دوم یہ کہ سنت قران کے بعد نہیں   بلکہ قران سے مقدم ہے ۔ اس لیے وہ لازما اس کے حاملین کے اجماع وتواتر ہی سے اخذ کی جائے گی ۔ قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہوا ہے   ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 84)

مولانا واصل واسطی تیسری وجہ اس بنیاد کے غلط ہونے کی یہ ہے   کہ جناب غامدی نے قران مجید کی جن آیات کو اس کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیاہے اس کو تسلیم کرنے کے بعد بھی انسان یہ سمجھتاہے   کہ اس کو جو  ہدایت   دی گئی ہے اور جو " شعور " عطا کیاگیا ہے وہ محض اجمالی " معرفت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 83)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس خلل کے متعلق یہ ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ " شعورِخوب وناخوب کو اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے اور اسے ان کی فطرت میں رکھا ہے " اس بات تک وہ انسانی فطرت کے براہِ راست مطالعے کے نتیجے میں نہیں پہنچے ۔ نہ ان لوگوں نے براہِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 81)

مولانا واصل واسطی رسولوں کے اتمامِ حجت کے خود ساختہ قاعدے کے متعلق ہم نے ان حضرات کے چاراصولوں کا تجزیہ گذشتہ مباحث میں کرکے دکھایا ہے کہ ان چار باتوں سے اس مدعا کا اثبات قطعا نہیں ہوتا ۔ آج اس سلسلے کی آخری اصول کے بابت ہم بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بات کو ہم تین شقوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

مولانا واصل واسطی اس مذکورہ بالا مسئلہ میں جناب غامدی نے چند اور باتیں بھی بطورِ اصول لکھی ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی کوئی بات اوراصول بھی اپنے مدعا کامثبت نہیں ہے۔ جناب کی ایک عبارت کاخلاصہ یہ ہے  کہ جب کوئی نبی علیہ السلام اپنی قوم پرحجت پوری کرتا ہے   تو اس قوم پر پھر...

گل رحمان ہمدرد

غامدی صاحب نے جو حدیث پروجیکٹ شروع کیا ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کام ہے اور انتہائ لائق تحسین ہے ۔یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس پروجیکٹ میں ایک مسئلہ ہے۔اور وہ یہ کہ اس کا مقدمہ یہ ہے کہ احادیث کو قرآن کی بنیاد پر پرکھا جائے۔اُدھر قرآن کا فہم مختلف مکاتب ہائے فکر کے ہاں مختلف ہے۔ آپکی قرآن کی تفہیم بدل جائے تو آپکی احادیث کی سلیکشن بھی بدل جائے گی۔

ایک شخص صرف اپنے فہمِ قرآن کی بنیاد پر کئے گئے اپنی سلیکشن کو علم النبی کیسے قرار دے سکتا ہے؟ ۔کل کوئی دوسرا عالم ایسا کرے تو وہ بھی علم النبی ہوگا اگرچہ اسکی سلیکشن غامدی صاحب کی سلیکشن کے برعکس ہو؟۔ کل کوکوئی مفسر اپنی تفسیر کو علم النبی قرار دے دے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا متضاد تعبیراتِ قرآن میں سے ایک شخص اپنی تعبیر کو علم النبی قراردے تو یہ درست اقدام ہوگا؟

وہاں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ قرآن تو قطعی الدلالہ ہے لیکن ہم اپنی تفہیمِ قرآن کے بارے میں قطیعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہی حقیقی فہم ہے۔ فہم ظنی ہے تو احادیث کے باب میں قطعیت کے ساتھ ان کے علم النبی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے؟ فہمِ قرآن ظنی ہے تو اس کی بنیاد پر جن احادیث کو صحیح قرار دیا جائے وہ قطعی کیسے ہوسکتی ہیں؟ وہ بھی ظنی ہیں ۔ اپنے ظنی علم کی بنیاد پر کئے گئے سلیکشن کو قطعی طور پر علم النبی قراردینا بہت پرابلیمیٹک بات ہے۔

حدیث پروجیکٹ تو ایک درست کام ہے۔ لیکن اس کا نام
پرابلیمٹک ہے۔ اس نام میں قطیعیت کی بو ہے جو گروہی تعصب پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی اور مناسب نام رکھا جاتا؟
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی تمام احادیث سنی علمِ حدیث سے ماخوذ ہیں۔ شیعہ علم حدیث اور اباضی علم حدیث کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ اپروچ خالصتاََ فرقہ وارانہ اپروچ ہے۔ جدید عہد کے ایک بڑے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسطرح کی فرقہ وارانہ اپروچ پر یقین رکھے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…