کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

Published On January 26, 2026
سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

حسن بن علی غامدی صاحب کا فکر فراہی کے تحت یہ دعوی ہے کہ حدیث قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کر سکتی (نہ تخصیص کر سکتی ہے نہ تنسیخ) اور چونکا رسول کی ذمہ داری بیان احکام مقرر کی گئی ہے (لتبين للناس ما نزل عليهم؛ ترجمہ: تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کر دیں جو آپ پر نازل ہوا) اور...

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

مفتی منیب الرحمن معراج کب ہوئی‘ اس کے بارے میں ایک سے زائدا قوال وروایات ہیں ‘ لیکن روایات کا یہ اختلاف واقعہ کی حقانیت پر اثرانداز نہیں ہوتا‘ کیونکہ اصل مقصود واقعے کا حق ہونا اور اس کا بیان ہے‘ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے تاریخ کا بیان ثابت نہیں ہے‘...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

مفتی منیب الرحمن جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :۔ چوں فنا اندر رضائے حق شود  بندۂ مومن قضائے حق شود  یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروقؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

مفتی منیب الرحمن دعا بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہوحتیٰ کہ گونگا بھی ہو‘ وہ اپنے رب سے براہِ راست التجا کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی...

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

ناقد : کاشف علی تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو...

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء   غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل...

ڈاکٹر زاہد مغل

متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں حسن ظن پیدا ہو، چاہے اس کاوش میں ان کے اصل مواقف کتنے ہی بگڑ جائیں۔ یہ علمی طریقہ نہیں ہے۔ ذیل میں ہم اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں جو حال ہی میں ایک محترم دوست کے ساتھ گفتگو ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آخر آپ شیخ ابن تیمیہ کے کلامی موقف پر نقد کیوں کرتے ہیں، کیا ہم الحاد کے خلاف بحث میں ان کے موقف کا لحاظ کرتے ہوئے ایک جامع موقف نہیں اپنا سکتے تاکہ سب گروہ ایک دوسرے سے سیکھ بھی سکیں اور مختلف سنی اراء جمع ہوجائیں؟

ہم نے ان سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ شیخ کے مطابق حوادث لا اول لھا انفائنائٹ ریگریس آف ایونٹس جائز ہے جبکہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک یہ محال ہے۔ اس اختلاف کو کیسے جمع کریں؟ انہوں نے کہا کہ دونوں دلائل میں وجہ اشتراک لے لی جائے اور وہ ہے محدث کا ثبوت۔

اس حل میں متعدد مسائل ہیں، ذیل میں بظاہر اس سادہ سے حل کا ایک پہلو واضح کیا جاتا ہے۔

دیکھئے متکلمین کا موقف یہ ہے کہ حوادث لا اول لھا محال ہے اور جو محال ہو اس پر مزید کسی حقیقت کا ثبوت کھڑا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ محال معدوم ہے (impossible is nothing)۔

جبکہ شیخ ابن تیمیہ کیا کہتے ہیں؟ یہ کہ حوادث لا اول لھا ممکن ہے اور اس سے بھی آپ کے بقول محدث ثابت ہوجاتا ہے۔ ٹھیک؟

آپ کا حل یہ ہے: ہم کامن فیکٹر کو لے لیں۔

اچھا تو باقی کا کیا کریں؟

چنانچہ اصل میں آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا مقدمہ چھوڑ دوں اور شیخ ابن تیمیہ کی بات مان لوں کہ یہ آکسی مورون ممکنات میں سے ہے۔ اس کے بعد متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف کیسے باقی رہا یہ بتائیں؟ بات یہ ہے کہ ان دو مواقف کے مابین “محدث کا ثبوت ہوجانا” مشترک ہے ہی نہیں، متکلمین ایسے ثبوت کی تردید کرتے ہیں۔

اور کیا اس کے بعد میں کسی ملحد کے سامنے انفائینائیٹ ریگریس محال ہونے کی دلیل پیش کرسکتا ہوں جبکہ میں خود ہی مان رہا ہوں کہ ایسا ہونا جائز ہے؟ چنانچہ یہاں جمع بین الاقوال نہیں ہوا بلکہ ایک قول کا ابطال ہورہا ہے اور وہ ہمارا ہے۔

اچھا اب ذرا آگے بڑھیں۔

اگر میں نے ایک مرتبہ شیخ ابن تیمیہ کا یہ اصول مان لیا کہ حوادث لا اول لھا جائز ہے تو اب وہ مجھے کہیں گے کہ اس سے ثابت ہوا کہ جو محل حوادث ہو اس کا حادث ہونا لازم نہیں، لہذا تمہارا خدا کو محل حوادث ہونے سے ماوراء کہنا غلط ہوگیا۔ یوں ہمارے ہاتھ سے خدا کی تنزیہات کے باب میں مخالفة الحوادث کا اصول جاتا رہا۔

پھر شیخ ابن تیمیہ کہیں گے کہ خدا محل حوادث ہوتے ہوئے بھی قدیم ہوسکتا ہے، جیسے حوادث لا اول لھا میں تم اسے ممکن مان چکے۔

پھر وہ بعض نصوص کے ظاہر سے خدا کے لئے جہت، حد، مقدار وغیرہ ثابت ماننے پر اصرار کریں گے وہ بھی حقیقی معنی میں، بس کیفیت مجہول ہے لیکن وہ ثابت ہے۔

پھر جب میں ان سے پوچھوں گا کہ حضرت وجود باری کے علم کی دلیل کے لئے عالم کے ممکن ہونے کی بنیاد کیا ہے؟

تو وہ کہیں گے کہ استدلال کی کوئی ضرورت ہی نہیں، وجود باری کا ادراک بس فطری ہے جو عالم کو دیکھتے ہی حاصل ہوجاتا ہے۔

پھر جب میں انہیں کہوں گا کہ جمہور متکلمین اس کے خلاف ہیں کہ خدا محل حوادث ہو؟

تو وہ کہہ دیں گے کہ فلسفہ پڑھنے سے ان کی فطرت مسخ ہوگئی تھی کیونکہ انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ وجود مکانی ہوتا ہے۔

اللہ اللہ خیر سلا، یوں شیخ ابن تیمیہ ہمارے اصول و فروع سب کو زمین بوس کردیں گے، اور انہوں نے درحقیقت یہی کاوش کی تھی۔

چنانچہ حوادث لا اول لھا محض ایک سادہ اصول نہیں ہے، شیخ ابن تیمیہ کا اس کے پیچھے ایک پورا ریسرچ پروگرام ہے۔ میں کوئی اتنا سادہ نہیں ہوں کہ پہلے قدم پر پھسل کر شیخ ابن تیمیہ کو متکلمین کے خلاف چوکے چھکے لگانے دوں۔

اب اگر کوئی ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو علی وجہ البصیرت چلے۔ کیونکہ ندوی و اصلاحی گروپ کے اکثر زعماء شیخ ابن تیمیہ سے پہلے کا کلام ٹھیک سے نہیں پڑھتے، لہذا ان کی اکثریت کو علم نہیں کہ شیخ ابن تیمیہ کا اصل ٹارگٹ کیا تھا۔ یہ لوگ بس “خدا کا وجود فطری ہے” کو ایک الگ تھلگ اصول کے طور پر اٹھا لیتے ہیں اور متکلمین پر چڑھائی کردیتے ہیں۔

چنانچہ یہ طریقہ بحث ٹھیک نہیں ہے کہ مختلف کلامی مواقف کے بے معنی قسم کے ملغوبے صرف اس لئے تیار کئے جائیں کہ ہم اپنے سب اسلاف کے اختلافات میں فصل نزاع کے لئے کوئی نہ کوئی توجیہ کرکے ذہنی سرور حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو سب کی بات درست ثابت ہوگئی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ جہاں جس قدر اختلاف ہے اسے بتایا جائے، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ذہین نوجوان یہ فرق مستشرقین کی تحریروں میں کسی بگڑی ہوئی شکل میں جان لیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…