وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

Published On February 25, 2026
جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

محمد حسنین اشرف

جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک دلیل دیتے ہیں کہ آپ کا عمل آپ کے انکار کی تکذیب کردے گا۔ حالانکہ یہ جملہ اصلا علمیاتی گفتگو سے انحراف ہے جو علمیاتی گفتگو میں نہیں بولا جانا چاہیے کیونکہ میرا عمل محض علمیات کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ یہ میری نفسیات سے بھی پیدا ہوتا ہے، میری عادات سے پیدا ہوتا ہے اور رائج علمیات کا اس میں بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ سو یوں علمیاتی مسئلے کو نفسیاتی مسائل سے کنفیوز کردیا جاتا ہے۔ اسے خالص علمیاتی گفتگو سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انکار ہو رہا ہے تو اس انکار کا یہ جواب الزامی جواب ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ نہ صرف خلط مبحث پیدا کرتا ہے بلکہ بات سمجھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرماتے ہیں: “عقل حواس سے حاصل ہونے والے علم کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سراب سے دوچار ہوگیا ہوں آپ نہ ہوئے ہوں۔ میرے آپ کے مابین اختلاف ہوا تو وہ مسلمہ نہیں بنے گا۔ اس کے مسلمہ بننے کا پھر عمل ہوتا ہے یعنی یہ ایسے نہیں ہوجاتا کہ علم و عقل کے مسلمات کی فہرست چلتے چلتے بن جاتی ہے۔ اس میں یہ سارے معلاملات ہوئے ہوتے ہیں۔ براہ راست دیکھا اتفاق ہوگیا، تجزیہ کیا اتفاق ہوگیا، علمی طریقے سے مطالعہ شروع کیا اتفاق ہوگیا، عقلی امکانات پر کام شروع کیا اور کسی امکان نے واقعہ کی صورت اختیار کرلی تو اتفاق ہوگیا تو اگر غور کریں آپ تو علم و عقل کے مسلمات کی تعبیر اسی لیے اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے وہاں سے مشاہدہ شروع ہوتا ہے۔ وہ کس وقت سب کی مانی ہوئی حقیقت بن جائے گا، جب وہ بن جائے گا تب وہ بنائے استدلال بنے گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل والی وجودی حقیقت آج چیلنج ہوگئی ہے اور آج والی کل ہوسکتی ہے تو یہ کس معنی میں اضطراری علم ہوا؟ اچھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اضطراری علم موجود ہے لیکن اس تک میری رسائی یقنی نہیں ہے، تو اگر میری رسائی یقنی نہیں ہے تو اضطراری علم میرے لیے کس صورت میں
Binding
ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اس علم نے تو مجھ پر حاکمیت قائم کرنی تھی اور اگر میں اس کو حاصل کرنے میں دھوکے کھاتا رہوں گا بایں معنی آج میں نے کسی چیز کو وجودی حقیقت تسلیم کیا اور کل کسی نے اس سے اختلاف کیا تو وہ یہ کس معنی میں مجھ پر حاکم ہے؟
۳۔ حواس دھوکہ کھا سکتے ہیں تو عقل دھوکہ کیوں نہیں کھا سکتی؟ محض یہ کہہ دینا کہ عقل حکم لگاتی ہے اور اس پر الہام ہوا ہے ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ
الف: اس الہام تک ہماری بلا خطا رسائی کیسے ہوتی ہے؟
ب: عقل کی کونسی فعالیت ہے جو حکم لگانے میں چوکتی نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عقل بہت بار چوکتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…