غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

Published On February 25, 2026
کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی تلخیص : زید حسن غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ " حقوق العباد" معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا " میں عموم ہے ۔ البتہ" ان اللہ لا یغفر  ان یشرک...

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے موسیقی، میوزک ، انٹرٹینمنٹ  کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ ارشاد فرمایا :  یہ سب حلال ہیں ۔ اور اپنے بیانیے کا مقدمہ اس طرح باندھا کہ "مختلف چیزوں کو حرام کہنا اور اسکے ذریعے سے استبداد پادریوں...

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟ غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔ غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔ اول ۔ " جمعہ ریاست پر فرض ہے "۔ اگر اس سے انکی...

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

محمد حسنین اشرف

باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں:
“جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے (۔۔۔۔) بلکہ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ میری چھٹی حس یہ کہتی ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ سب چیزیں وہی ہیں جن میں آپ باطنی حواس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ تو انہیں اسی تعبیر کے ذریعے متعارف کروانا چاہیے”۔
دوسری نشست میں غامدی صاحب کی گفتگو میں شاید یہ حصہ سب سے زیادہ کم ڈویلپڈ محسوس ہوا خاص طور یہ کمی اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ یہ حصہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس حصہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ غامدی صاحب ان حسیات کو ذرائع علم اور بنائے استدلال بنانے والے ہیں اور اخلاقیات سے لے کر بقیا تمام مذہبی مقدمات کو یہیں سے جنم لینا ہے اگر اس پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہوگی اور ان ذرائع علم اور بنا ہائے استدلال پر اعتماد قائم نہیں ہوگا تو بات سمجھنے میں مشکل ہوگی۔ غامدی صاحب ہی کی زبانی یہ اکثر سٗنا ہے:
خشت اول گر نهد معمار کج تا ثریا می‌رود دیوار کج
۱۔ “آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں”
یہ کام غامدی صاحب کا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے بتائیں کے ان کے لیے کونسی اصطلاح موزوں ہے، محض یہ کہہ دینا کہ آپ اس کے لیے کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک غالبا یہ بیان کرنا کم اہمیت کا حامل ہے کہ اس شے کی حقیقت کیا ہے جس کو ہم ذریعہ علم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اصطلاحات محض نام نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے لیے شے کو جاننے کی ایک کوشش ہے، آنکھ محض ایک عضو کا نام نہیں ہے بلکہ لفظ آنکھ اور اس سے جڑا مشاہدہ اپنے آپ میں ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ظاہری حسیات محض ایک نام نہیں ہیں بلکہ علمیات میں ان پر مستقل کلام ہوتا ہے۔ جسے محض یہ کہہ نہیں گزرا جاسکتا ہے کہ لوگ اسے ظاہری حسیات کہتے ہیں آپ چاہیں تو کوئی اور تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
۲۔ “میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے”
یہ جانے و بیان کیے بغیر کہ ظاہری حسیات اور باطنی حسیات میں کیا اقدار مشترک ہیں یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ ان کو ظاہری حواس کے مقابلے میں باطنی حواس کہنا کس قدر موزوں ہے۔ اسی طرح یہ حسیات جس شے تک ہمیں رسائی دیتی ہیں، اس شے کو یہ کس معنی میں حس کرتی ہیں اور کیا اسے حس کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات نہایت اہم ہیں ان کے جواب دیے بغیر یہ واضح نہیں ہوسکتا آیا کہ ظاہری حسیات کے مقابلے یہ موزوں تعبیر ہے یا نہیں۔ مثلا میں کمزور اور مضبوط دونوں مثالیں لیتا ہوں:
الف (کمزور مثال): چھٹی حس
میری چھٹی حس کیسے کام کرتی ہے اور مجھے کس شے تک رسائی دیتی ہے یہ جانے بغیر محض لوگوں کے اس لفظ کو استعمال کرلینے سے وہ شے “حس” نہیں بن جاتی، کیا انسان بہت سی چیزوں سے متعلق دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا. کیا غامدی صاحب واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لفظ چھٹی حس کو استعمال کرلینے کا مطلب چھٹی حس کا بہ طور حس وجود رکھنا بھی ہے؟
ب (مضبوط مثال): حاسہ اخلاقی
انسان اخلاقی کانٹینٹ تک رسائی رکھتا ہے لیکن وہ رسائی اسے کسی خاص حس جسے ہم حاسہ اخلاقی سے تعبیر کرتے کے ذریعے حاصل ہے اس کے لیے دو مقدمات ثابت کرنا ضروری ہے؛ ایک یہ وہ حس وجود رکھتی ہے اور دوسرا یہ کہ اخلاقیات یا اخلاقی کانٹینٹ جس شے سے اخذ کیا جا رہا ہے وہ وجود رکھتا ہے اور محض وجود کے دعوی پر یہ مقدمہ موقوف نہیں ہوگا بلکہ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ حس کی حقیقت کیا ہے اور جو شے وجود رکھتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
۳۔ یہ فرق بہرحال قائم ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب اس وقت لوگوں کے لسانی استعمالات کو بیان نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک علمیاتی گفتگو کر رہے ہیں اور جب کوئی شخص یہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا موضوع بحث وہ شے اور اس شے سے متعلق جانکاری بہم پہنچانا ہے نہ کہ یہ دیکھنا کہ لوگ فلاں شے کے لیے کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اٗن کا کام یہ تجزیہ کرکے بتانا ہے کہ یہ شے وجود رکھتی ہے، ہم اس شے تک اتنی رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اس شے کی فلاں تحدیدات ہیں وغیرہ وغیرہ!
غامدی صاحب کی گفتگو سے یہ احساس نہایت پختہ ہوتا جاتا ہے کہ وہ محض زبان کے استعمال کو حقیقت تک رسائی کا حصہ سمجھتے ہیں یا کم از کم اسے اشارتی طور پر ضرور دیکھتے ہیں۔ اس تاثر کو یا ثابت ہونا چاہیے بہ طور حقیقت یا اس کو زائل ہونا چاہیے ورنہ یہ بہت
misleading
ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.