(1) مجھے خیال ہوتا ہے“ | ’قطعی‘ تفسیر کا عمدہ نمونہ

جہانگیر حنیف ”مجھے خیال ہوتا ہے“، ایک فقرہ ہے جس کا جو بھی مطلب ہے، اس میں قطعیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اِس پر ہمیں یقین ہے۔ آپ کوئی ایک دلیل لے آئیں کہ ”مجھے خیال ہوتا ہے“ کا فقرہ کسی بھی طرح کی قطعیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ قطعیت تو دور کی بات ہے،...

دلالت کی قطعیت : آصف افتخار صاحب کا سوال

جہانگیر حنیف آصف افتخار صاحب کی محبت و عنایت ہے کہ انھوں نے ناچیز کے قول پر اپنے قیمتی رائے کا اظہار فرمایا ہے۔ ان کا اسلوبِ بیان جس عجز و انکساری کا غماز ہے، وہ ان کی پوری شخصیت کا نچوڑ ہے۔ وہ بالعموم انگریزی زبان ہی کو اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں اور اس دائرے میں ہمیں...

غامدی صاحب کا فکری مغالطہ (3)

جہانگیر حنیف شریعت میں یہی چار محرمات ہی اصلاً کیوں زیر بحث ہیں، اس کا جواب غامدی صاحب یہ دیتے ہیں کہ انسانوں کے لیے اِن محرمات کی حرمت کے بارے میں کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنا محض عقل و فطرت کی رہنمائی میں ممکن نہ تھا۔ لہذا شریعت نے اِسے بالصراحت متعین کردیا۔ ان کا یہ...

تفہمِ غامدی : ایک تجزیہ

اویس پراچہ جناب غامدی صاحب کو میں نے بہت زیادہ نہیں پڑھا، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان کی کتابیں تفصیل سے پڑھی ہوں اور ان کی آراء کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا ہو۔ جتنا انہیں سنا اور پڑھا ہے اس کے بعد ضرورت ہی کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ جتنا سنا اور پڑھا ہے اس کے بعد میری ان کے...

غامدی صاحب کا فکری مغالطہ (2)

جہانگیر حنیف غامدی صاحب چار محرماتِ طعام کو شریعت کا اصلاً موضوع قرار دیتے ہیں۔ دوسرے محرماتِ طعام ان کے نزدیک انھی کی فرع ہیں یا وہ فطرت کا بیان ہیں؛ وہ بیانِ شریعت نہیں۔ یہ چار محرمات ہی شریعت کا اصلاً موضوع کیوں ہیں، لکھتے ہیں:۔ ”یہ سب بیان فطرت ہی ہے۔ اِس میں شبہ...

غامدی صاحب کا فکری مغالطہ (1)

جہانگیر حنیف دینِ اسلام عین فطرت ہے۔ جس رحیم و کریم اور بابرکت ہستی نے انسان کو تخلیق کیا ہے، اُسی نے دینِ اسلام کو تعلیم کیا ہے۔ لہذا ان میں منافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شریعت میں جو حکم بھی نازل کیا ہے، وہ حکم ہی انسانی فطرت...