ڈاکٹر زاہد مغل ، مشرف بیگ اشرف قرآن و سنت کے مابین باہمی ربط کے ضمن میں بیان کی بحث کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور جناب غامدی صاحب نے اس حوالے سے یہ موقف اپنایا ہے کہ بیان کے لغوی طور پر دو معنی ہیں جو کسی مشترک لفظ کے دو معانی کی طرح بیک وقت مراد نہیں لئے جاسکتے: 1)...
ڈاکٹر زاہد مغل بحث و تنقیح کے بعد مکتب فراہی کے منتسبین کی جانب سے “قرآن قطعی الدلالت” کا معنی یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب قرآن میں کسی آیت کا محتمل الوجوہ نہ ہونا ہے، اور محتمل الوجوہ کا مطلب ایسا لفظ یا آیت ہونا ہے جس میں ایک سے زیادہ معنی لینے کا...
مفتی ابو لبابہ (7) غامدی صاحب نے سورۃ الأعلى کی اس آیت: “قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى” کا ترجمہ کیا ہے:”یقیناً فلاح پائی جس نے پاکیزگی اختیار کی۔” (میزان، ص: 1102) یہ ترجمہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن آگے چل کر انہوں نے “پاکیزگی اختیار...
مفتی ابو لبابہ اب آئیے! ان اعتراضات کو تفصیل سے ملاحظہ کیجیے تاکہ ہمارے دعوے کی بنیاد آپ پر کھل جائے۔ (1) عربیت کے خلاف ترجمہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا، “غُثاء” کے معنی ہرگز گھنے سبزے کے نہیں ہیں۔ عربی لغات اس بات پر بالکل متفق ہیں کہ “غُثاء” کے...
مفتی ابو لبابہ غامدی صاحب اور ان کا مکتبِ فکر آج کل اپنے اجتہادِ جدید کی روشنی میں وطنِ عزیز کو چکاچوند کرتی روشنیوں اور دمادم کرتی روشن خیالیوں کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے اُمت کے تمام پہلے اور پچھلے اہلِ علم کی تحقیقات کی نفی کرتے ہوئے قرآنِ کریم...
مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ ۔(8) غامدی صاحب نے بخاری شریف کی ایک روایت نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:”إِنَّمَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”ترجمہ کیا: “آگاہ ہو کہ تم میں سے ہر شخص چرواہا ہے اور ہر ایک سے اس کے گلے...