تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط سوم

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ ۔(4) غامدی صاحب نے خطیب بغدادی کی کتاب “الکفایة فی علوم الروایہ” کی عبارت نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:”ولا يُقبل خبر الواحد في مناقضة حكم العقل و حكم القرآن الثابت المحکم و السنة المعلومة و الفعل الجاري مجرى...

تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط دوم

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ ۔(1) غامدی صاحب نے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا ذکر کرتے ہوئے السیرۃ النبوية اور ابن کثیر کے حوالہ سے ولید بن مغیرہ کا کلام نقل کیا ہے، جس کے ابتدائی الفاظ ہیں:”والله ما منكم رجل أعرف بالأشعار مني، ولا أعلم برِجزه ولا...

تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط اول

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم۔ أما بعد علمائے امت نے قرآن کریم کی تفسیر کرنے والے کے لیے جو شرائط مقرر فرمائی ہیں ان میں حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، علومِ بلاغت، صرف، نحو اور اسبابِ نزول وغیرہ میں مہارت ہونا ضروری ہے۔ اور سب...

قرآن مجید کے ساتھ سنت کے متعلق ہونے کی تین جہات

جہانگیر حنیف پہلا درجہ یہ ہے کہ سنت ہر پہلو سے قرآن کے موافق ہو؛ چنانچہ قرآن اور سنت کا کسی ایک حکم پر وارد ہونا دراصل دلائل کے باہم موافقت اور ایک دوسرے کی تائید کی مثال ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ سنت قرآن کے مراد کی توضیح و تشریح کرے اور اس کا بیان بنے۔ تیسرا درجہ یہ...

(2) مجھے خیال ہوتا ہے“ | ’قطعی‘ تفسیر کا عمدہ نمونہ

جہانگیر حنیف آئیے اب ہم اپنے مضمون کے دوسرے حصہ کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس حصہ میں ہم دکھائیں گے کہ مذکورہ آیہ مبارکہ کے اس ٹکڑے کا درست معنی کیا ہے۔ اس حصہ میں ہم اپنے قارئین کو یہ بھی دکھانا چاہیں گے کہ غامدی و اصلاحی نے اپنے ترجمہ و تفسیر میں کیسی فاش غلطیوں کا ارتکاب...

(1) مجھے خیال ہوتا ہے“ | ’قطعی‘ تفسیر کا عمدہ نمونہ

جہانگیر حنیف ”مجھے خیال ہوتا ہے“، ایک فقرہ ہے جس کا جو بھی مطلب ہے، اس میں قطعیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اِس پر ہمیں یقین ہے۔ آپ کوئی ایک دلیل لے آئیں کہ ”مجھے خیال ہوتا ہے“ کا فقرہ کسی بھی طرح کی قطعیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ قطعیت تو دور کی بات ہے،...