سود اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

حسان بن علی

غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش کرتا ہے ليكن حدیث میں وارد الفاظ “مُوكِله” کا یہ ترجمہ اور مفہوم قطعا درست نہیں کیونکہ جیسے “آكِل الربا” کا ترجمہ سود کھانے والا کیا جاتا ہے اور درحقیقت اس سے مراد سود لینے والا ہوتا ہے اسی طرح “مُوکِل الربا” کا ترجمہ سود کھلانے والا جب کیا جائے گا تو درحقیقت اس سے مراد سود دینے والا ہی ہوگا نہ کہ وہ جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش کرے.
ليكن غامدی صاحب نے لفظی اردو ترجمے (سود کھلانے والا) کو مترجم زبان میں محاورے کا رنگ دیتے ہوئے، اس سے اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی ہے یعنی سود کھلانے والے سے مراد سود دینے والا نہیں بلکہ سود خور کو گاہک فراہم کرنے والا ہے، وہ اس طرح کہ وہ سود خوری کے گاہک فراہم کر کے سود خور کو سود کھلاتا ہے. ليكن در حقیقت یہ غلطی ان سے اپنی زبان میں محاورے کو گھسیٹنے سے ہوئی جبکہ کوئی عام عرب ایسی غلطی غلطی سے بھی نہیں کر سکتا.
مزید یہ کہ صحیح مسلم کی ہی ایک اور حدیث میں جہاں سود کی ایک خاص قسم (ربا الفضل) کی حرمت بیان ہوئی وہاں الفاظ یہ ہیں “الآخذ والمعطي سواء في الربا” یعنی سود کے معاملے میں لینے والا اور دینے والا جرم کرنے میں برابر ہیں اور زیر نظر حدیث کے آخر میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ سود کھانے والا سود کھلانے والا اسی طرح سود کی کتابت کرنے والا اور سود پر گواہ بننے والے سب جرم کرنے میں برابر ہیں (واضح رہے کہ دونوں چیزوں میں فرق ہے ایک یہ کہ جرم کرنے میں برابر ہونا اور دوسرا یہ کہ برابر کے مجرم ہونا)
دوسرا غامدى صاحب کا یہ اشکال کہ سود دینے والا (قرض دار) ہر حالت میں مظلوم يا لائق ہمدردی ہوتا ہے درست نہیں کیونکہ
ضروری نہیں کہ سود دینے والا (قرض دار) اپنی ذاتی ضرورت اور حاجت کے لیے قرض لے بلکہ سودی معاملے کی نوعیت تجارتی سود کی بھی ہو سکتی ہے کہ جہاں قرض لینے والے کی غرض بھی اس سے مزید مال بنانا ہو. کیا اس صورت میں بھی وہ سودى قرض لینے کے لیے مجبور سمجھا جائے گا اور ايسى مجبوری کا اعتبار كيا جائے گا؟
اسى طرح معاملے کی نوعیت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قرض دار کا قرض خواه کو بڑھا چڑھا کر سود كى ادائیگی کی ضمانت دینا اور اپنے اس حربے کے ذریعے قرض خواه سے زیادہ قرضہ وصول کرنا ہو. تو کیا اس صورت میں بھی اس کا عمل لائق ہمدردی ہو سکتا ہے؟
درحقيقت غامدی صاحب کے اس موقف میں بھی جو اصل فکر يا اصول کار فرما ہے وہ یہی ہے کہ قرآن میں چونکہ سود دینے والے کى مذمت مذکور نہیں اور ان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حیثیت نہیں کہ وہ کوئی مستقل بذات حکم خود سے بیان کر سکیں جس کا قرآن میں کسی صورت ذکر نہ ہو لہذا اگر بالفرض حدیث میں ايسى کوئی چیز واضح طور نظر آ بھی رہی ہو تو اسے نظر کا دھوکہ سمجھا جائے گا!

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…