فکرِ فراہی کا سقم

Published On April 14, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

ڈاکٹر خضر یسین

مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ روایتی علوم کی متداول تنقید میں ان جواب تھا۔ لیکن وہ تمام فکری تسامحات ان میں پوری قوت کے ساتھ موجود تھے جو روایتی مذہبی علوم اور ان کے ماہرین میں پائے جاتے ہیں۔ عربی زبان و بیان کے تناظر میں قرآن مجید کے محاسن بیان کرنے والے وہ پہلے فرد نہ تھے۔ ان سے قبل بڑے صاحب ذوق اور صاحب نظر قرآن مجید کی لسانی نزاکتوں اور خوبیوں کو ان سے بہت بہتر بیان کر چکے ہیں۔
روایتی مذہبی علوم اور علماء کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ وہ فکر و فن کی حدود صحت  کا تعین کرتے ہیں اور نہ موضوع کے مختلف ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے امتیازات اور فکری مضمرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بزعم خویش فلک بوس علوم و فنون کی عمارتیں میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ان علوم و فنون کی خشت اول ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی۔
“متشابہات” کے متعلق فراہی صاحب کا موقف واضح طور پر غلط ہے۔ وہ متشابہات کا مفہوم و مدلول اگر خود قرآن مجید سے لیتے تو ایسی غلطی نہ کرتے۔
آخرت کے متعلق قرآن مجید کا کوئی ایک بیان بھی ایسا نہیں ہے جس میں ایک سے زیادہ معنی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہوں۔ متشابہ میں معنی کی کثرت کا تدارک تاویل کے ذریعے کیا جاتا ہے اور کسی ایک معنی کو مرجح بتانے کے لیے “تاویل” کی جاتی ہے۔ یہ موؤل معنی ظنی ہوتا ہے۔ عقائد و ایمانیات کی بنیاد نہ اشتباہ پر رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی ظن و تخمین یہاں کار آمد ہو سکتا ہے۔
مفسرین، متکلمین اور فقہاء نے جن آیات کو متشابہات فرض کر لیا ہے ان میں کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جس میں تاویل سے معنی کا تعین ناگزیر ہو۔ متشابہات کی تاویل ناگزیر ہوتی ہے۔ اس کے بغیر متشابہ متشابہ رہتا ہے۔ مزید برآں مووّل معنی کی اتباع سے قرآن مجید نے روکا ہے۔ لیکن مولانا فراہی رحمہ اللہ “متشابہات” کا مفہوم اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں اور محکمات کو متشابہات بنا دیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…