مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

Published On April 17, 2025
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

ڈاکٹر خضر یسین

مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ عربی زبان و ادب کی ایسی شاندار خدمت کا نمونہ کسی دوسری کتاب میں انجام دینا ممکن نہ تھا۔ قرآن کی عربی زبان و بیان کے معارف کی تحقیق میں سیاہ بالوں کو سفید کر لیا لیکن پوری عمر ان معارف کی جستجو میں سے نہ نکل سکے جن کا تعلق عربی زبان و بیان کے فصاحت و بلاغت کے ان معیارات سے تھا جن کا وجود زبان و بیان کے وجود میں آ جانے کے بعد وضع کیا جاتا ہے یا ذوقا دریافت کر لیا جاتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی فصیح و بلیغ زبان جس مقصد کے ابلاغ کے لیے اختیار کی گئی ہے یا وہ معنی جن میں “الوہی ھدایت” مقید و محدد ھے، مولانا کے مطالعے کا کبھی موضوع نہیں رھے۔ مولانا کی جستجو اور فکر افروزی “الوہی کلام” کے ندرت بیان کی وضاحت تک محدود رہی ہے۔ اس ندرت بیان کی دریافت میں مولانا کس حد تک کامیاب ہوئے، یہ ایک الگ موضوع ہے۔
مولانا کی تحقیق سے عرب و عجم کے ہزاروں مسلمانوں میں تدبر فی بیان القرآن کا ذوق پیدا ہوا اور یہ ذوق ظاہر ہے خالصتا جمالیاتی تھا۔
الوہی ھدایت جس کے پہلے مکلف و مخاطب آنجناب علیہ السلام تھے، اسے مولانا نے کبھی موضوع سخن نہیں بنایا۔ ان کی تحریروں کا ایک ایک لفظ گواہی دے رہا ہے کہ وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کا عاشق ہے اور اس کے لفظ لفظ کے برمحل استعمال پر جان نثار کرتا ہے، لفظ اور اس کے موزوں ترین استعمال کا ذوق انسان میں جس انفرادیت کی جستجو کا ملکہ پیدا کرتا ھے، مولانا کی تحریروں سے بالکل عیاں ھے۔ مولانا کے مسترشدین میں قرآن مجید کے فنی اور لسانی فہم و تدبر کے لحاظ سے بہت کم لوگ اس مرتبے پر پہنچے ہیں، جس پر اللہ عزو جل نے مولانا فراہی ؒ کو سر فراز فرمایا تھا۔
کاش کبھی اس طرف بھی وہ متوجہ ھوتے تو مابعد کے متوارثین فقط عربی زبان و بیان پر خود کو محدود رکھنے کے عذاب سے بچ جاتے۔ قرآن مجید “تفسیر طلب متون” کی صف میں شامل ھے کہ نہیں ھے؟ اس سوال کا جواب صرف عربی دانی سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے اور طرح کی ذہنی محنت درکار ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…