فتنہء غامدیت کا علمی محاسبہ

Published On July 24, 2024
تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے یہ بات کی ہے کہ تراویح سرے سے کوئی نماز ہی نہیں ہے ۔ اور اسکی ابتداء حضرت عمر کے دور میں ہوئی ہے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ آپ نبی ﷺ کے عمل کو دلیل بنا رہے ہیں اگرچہ وہ بھی دلیل نہیں بنتی کیونکہ حضور ﷺ نے تین دن باقاعدہ...

نظم، مراد،متکلم اور متن

نظم، مراد،متکلم اور متن

محمد حسنین اشرف   نظم:۔ پہلے نظم کی نوعیت پر بات کرتے ہیں کہ یہ کس نوعیت کی شے ہے۔ غامدی صاحب، میزان میں، اصلاحی صاحب کی بات کو نقل کرتے ہیں:۔ ۔" جو شخص نظم کی رہنمائی کے بغیر قرآن کو پڑھے گا، وہ زیادہ سے زیادہ جو حاصل کر سکے گا ، وہ کچھ منفرد احکام اور مفرد قسم...

مصنف : پروفیسر محمد رفیق

تلخیص : زید حسن 

یہ کتاب ایک مقدمہ اور دس ابواب پر مشتمل ہے ۔ 

مقدمہ میں مصنف نے فکرِ غامدی کو تجدد پسندی کی نمائدہ قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ زمانہ قدیم کی وہ تمام تحریکیں جو اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کرتی رہی ہیں ، غامدی صاحب اپنی فکر میں اسی کا تسلسل ہیں ۔ مصنف کے بقول ایسی تحریکوں اور فکرِ غامدی میں مذہب کو فرد کی زندگی تک محدود کرنے ، جہاد کو معطل کرنے ، اسلامی خلافت کا انکار کرنے، قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے کاٹنے ، اجماع اور حدیث کی حجیت کا انکار کرنے  اور قرآن میں معنوی تحریف جیسے امور میں مماثلت پائی جاتی ہے ۔

مقدمے میں موجود اپنے اس دعوے کو مصنف نے کتاب کے تمام ابواب میں پھیلا دیا ہے ۔

کتاب کے ابواب درج ذیل ہیں 

اول ۔ ایمانیات

اس باب میں خدا ، انبیاء ، آخرت ، ایمان و کفر اور ان موضوعات کے متعلقات سے بحث کی گئی ہے ۔

دوم ۔ قرآنیات

اس باب میں علومِ قرآن کی ابحاث شامل کی گئی ہیں مثلا قراءاتِ سبعہ کا مسئلہ ، الفاظِ قرآن سے استدلال کا طریقہ ، محکم اور متشابہ آیات کا مسئلہ اور نظمِ قرآن کا مسئلہ وغیرہ۔

سوم ۔ حدیث و سنت 

اس باب میں روایت میں موجود تصورات اور غامدی صاحب کے نظریہء سنت اور انکے ہاں حدیث کے مقام کو موضوع بنایا گیا ہے جسے بعدازاں انکارِ حدیث سے منسلک کیا گیا ہے ۔

چہارم ۔ عبادات 

اس باب میں تعبدی امور میں جہاں جہاں فکرِ غامدی سے اختلاف تھا ، اسے شامل کیا گیا ہے ۔ جیسے عورت کی امامت کا مسئلہ ، زکوۃ کی حیثیت اور ریاست کے اس سے تعلق کا مسئلہ وغیرہ

پنجم ۔ معاشرت

اس باب میں نکاح ، وصیت اور پردے سے متعلق چند احکامات کو جمع کیا گیا ہے ۔

ششم ۔ سیایت و ریاست

اس باب میں ریاست کے اختیارات ، اسکی اہمیت ، حد و تعزیر کے احکامات ، غیر مسلم شہروں کی شرعی حیثیت اور جہاد جیسے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے ۔

ہفتم ۔ فقہی مسائل

اس عنوان کے تحت مصنف نے حلال و حرام ، کلالہ اور غسلِ شہید جیسے مسائل کو موضوع بنایا ہے ۔

ہشتم ۔ متفرقات

اس بابت میں متنوع اور متفرق اشیاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ جیسے دین اور فطرت کا تعلق، تصوف کا متوازی دین ہونا، غامدی صاحب کے دعاوی اور شطحیات وغیرہ

نہم ۔ فکری تضادات

اس باب میں علمی اور فکری مسائل کی بابت غامدی صاحب کی فکر میں موجود تضادات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

دہم۔ متفقہ اسلامی عقائد و اعمال سے تقابل 

اس باب میں ایک چارٹ مہا کیا گیا ہے جس میں روایتی فکر کے مطابق امت کے تصورات و اعمال اور اسکے مقابل غامدی صاحب کی فکر کے نتائج کو بیان کر کے دونوں میں تضاد کو دیکھایا گیا ہے ۔ جسکے بعد غامدی صاحب کے نظریات کے حوالے شامل کئے گئے ہیں ۔

اسی باب میں دو ضمیمہ جات شامل کئے گئے ہیں ۔

ضمیمہ اول میں چند مزید اعتقادات اور اعمال کو موضوع بنایا گیا ہے ۔

ضمیمہ ثانی میں سو سوالات کئے گئے ہیں جن میں سے ابتدائی دس کی نوعیت علمی کی بجائے ذاتی ہے ۔

مصنف کتاب کا عمومی انداز یہ ہے کہ وہ اولا غامدی صاحب کی فکر کے کسی جزئیے کو بحوالہ بیان کرتے ہیں اور اسے قرآن ، حدیث اور روایتی فکر  کے حوالوں سے رد کرتے ہیں ۔

اپنا موقف بیان کرنے کی بجائے فکرِ غامدی پر نقد کو کتاب کا اولین مقصد بناتے ہیں ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب پڑھنے کے لئے درج ذیل آنلائن لنک پر کلک کریں

نوٹ

لنک میں موجود سائٹ پر کتاب کے غیر قانونی اپلوڈ ہونے کی صورت میں غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ سائٹ ذمہ دار نہیں ہو گی ۔

https://books.kitabosunnat.com/Books_Data/624/Fitna%20e%20Ghamdiyat%20Ka%20Ilmi%20Muhasiba.pdf

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…