غامدی سے اختلاف کیا ہے ؟ قسط 12

Published On August 24, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 81)

مولانا واصل واسطی رسولوں کے اتمامِ حجت کے خود ساختہ قاعدے کے متعلق ہم نے ان حضرات کے چاراصولوں کا تجزیہ گذشتہ مباحث میں کرکے دکھایا ہے کہ ان چار باتوں سے اس مدعا کا اثبات قطعا نہیں ہوتا ۔ آج اس سلسلے کی آخری اصول کے بابت ہم بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بات کو ہم تین شقوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

مولانا واصل واسطی اس مذکورہ بالا مسئلہ میں جناب غامدی نے چند اور باتیں بھی بطورِ اصول لکھی ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی کوئی بات اوراصول بھی اپنے مدعا کامثبت نہیں ہے۔ جناب کی ایک عبارت کاخلاصہ یہ ہے  کہ جب کوئی نبی علیہ السلام اپنی قوم پرحجت پوری کرتا ہے   تو اس قوم پر پھر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 79)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان حضرات کے  اس دوسرےاصول کا جائزہ لیتے ہیں کہ اہلِ مکہ پرعذابِ الہی کانزول نبی صلی اللی علیہ وسلم اورصحابہ کے ہاتھوں نازل ہو تھا ۔ اور کیا واقعی اہلِ مکہ کے متعلق شرع میں یہ حکم تھا  کہ ان کے بچنے کے اب فقط دوہی طریقے ممکن ہیں  کہ یاتو وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 78)

مولانا واصل واسطی اس بات کی معمولی تفصیل ہم یہاں کرتے ہیں تاکہ مولانا مودودی سے عقیدت رکھنے والے لوگ ہماری اس بات سے دکھی نہ ہوں ۔  یہ تو معلوم ہے کہ سیدنا یونس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ "وان یونس لمن المرسلین اذابق الی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 77)

مولانا واصل واسطی اس قسط میں ہم" اتمامِ حجت "کے اس قانون کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن پہلے جناب غامدی صاحب  کے عبارت کو دوبارہ دیکھنا ضروری ہے ۔ جناب غامدی لکھتے ہیں " یہ آخری مرحلہ ہے اس میں اسمان کی عدالت زمیں پر قائم ہوتی ہے ۔ خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور...

مولانا عبد الحق بشیر

حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بارے میں:۔

پہلا مرحلہ جاوید احمد غامدی صاحب کا تھا۔ دوسرا ان کے وکیل و شاگرد عمار خان ناصر کا تیسرا مرحلہ حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی کا ہے۔ اس کو میں ذرا مختصر بیان کروں گا۔ مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کے علم و فضل میں کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن اُن کے ساتھ ہمارے (بہت سے ) اختلافات ہیں۔ میں اس وقت باقی سارے اختلافات کو نظر انداز کرتا ہوں۔ میرے پاس اختلافات کی ایک فہرست ہے (لیکن فی الحال) میں سب کو نظر انداز کرتا ہوں۔ صرف تین اختلافات کو سامنے رکھتا ہوں۔

پہلا اختلاف: کیا مودودی کی غلطیاں تفردات ہیں؟

آپ مودودی نام کے کسی شخص کو جانتے ہیں؟ (جی!) اس کے بارے میں کیا نظریہ ہے آپ کا؟ (سراسر ضال اور مضل ہے! وہ گمراہ آدمی ہے۔ تمام علمائے دیوبند کا اجماع ہے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی ، شیخ الاسلام حضرت مدنی، شیخ التفسیر حضرت لاہوری سے لے کر آج تک تمام علمائے دیوبند کا مودودی کی ضلالت پر اجماع ہے۔ لیکن علامہ زاہد الراشدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ مودودی صاحب نے جو غلطیاں کی ہیں وہ ضلالت نہیں ہے، تفرد ہے۔

تفرد اور ضلالت میں فرق:۔

تفرد اور ضلالت میں فرق  تھوڑا سا سمجھا دوں۔ ایک آدمی اصولوں کا انکار نہیں کرتا، لیکن تحقیق میں غلطی کر کے ایک مسئلہ غلط بیان کر دیتا ہے یا دو مسئلے غلط بیان کر دیتا ہے۔ اگر اس شخص کی دیانت بھی مسلم ہے، اس کا علم بھی مسلم ہے، اس کا فہم بھی مسلم ہے۔ تو اس کی ایسی غلطی کو “تفرد” کہتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے ، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے اور ان جیسے علماء و مشائخ جن کا علم و تقوی مسلم ہے، اگر کوئی غلطی ہوئی تو اُسے” تفرد“ کہا جائے گا۔ لیکن ایک آدمی اصول بھی بدلتا ہے اور اُن غلط اُصولوں کی بنیاد پر نئی تحقیق کر کے اُمت کے ایک نہیں، دو نہیں، چار نہیں، آٹھ نہیں، دس نہیں، بیسیوں مسائل کو رد کرتا ہے، اُس کی غلطیوں کو تفرد کہنا یہ بذاتِ خود ضلالت ہے۔

تفرد فرد کا ہوتا ہے جماعت کا نہیں !۔

بلکہ میں ایک بات اور کرتا ہوں کہ: تفرد اُسے کہتے ہیں جو فرد کرتا ہے۔ مجلس شوری تفرد نہیں کرتی۔ اب جماعت اسلامی کے دستور میں مسلمان کی تعریف میں آج بھی یہ بات موجود ہے کہ: جو رسول خدا ﷺ کے علاوہ نہ کسی کو معیار حق مانے، نہ کسی کو تنقید سے بالاتر سمجھے، نہ کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو۔ اس کی زد میں صرف صحابہ نہیں  باقی تمام انبیاء بھی آرہے ہیں۔ کیونکہ رسول خدا کا لفظ بولا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ باقی تمام انبیاء میں سے کوئی نبی بھی تنقید سے بالا تر نہیں۔ وہ بھی معیار حق نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: جماعت کی پوری مجلس شوری بیٹھ کر صحابہ کرام کے معیار حق و صداقت ہونے کا انکار کرتی ہے اور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب  فرماتے ہیں: یہ تفرد ہے۔

شیخ الاسلام و المسلمین حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر مستقل رسالہ لکھا ہے: “مودودی دستور وعقائد ” جس میں اُنھوں نے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ اسے اُمت کے اجماعی عقیدے کے خلاف قرار دیتے ہوئے ضلالت کہا گیا ہے۔ لیکن آج اُن (مودودیوں) کی ضلالت کو چھپانے کے لیے تفرد کا نام دیا جاتا ہے۔ (جو یقینا غلط ہے۔)

مولانا راشدی سے متعلق یہ ایک بات ہوئی۔

 

جاری

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…