قرآن و سنت کا باہمی تعلق

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی کے ،، استادامام ،، مولانا اصلاحی انہی آیاتِ سورہِ انعام کے متعلق رقم طراز ہیں کہ ،، اوپر کی آیات میں حضرت ابراہیم کی دعوت کے ساتھ ان کے روحانی وایمانی مدارج کابیان ہوا ۔اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اس دنیامیں بھی اللہ نے ان کو اوران کی دعوت کو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 63)

مولانا واصل واسطی اب چند اور عبارتیں بھی سورتِ نحل ( 123) کے متعلق دیکھتے ہیں ۔ محمدعلی لاہوری لکھتے ہیں ،، ملتِ ابراہیمی پر چلنے کا ارشاد  یعنی وہی کام کرو جو ابراہیم نے کیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم بھی شرک کی بیخ کنی کرو  جس طرح حضرت ابراہیم نے کی ۔ کیوں کہ ملتِ ابراہیمی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 62)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے جیساکہ ہم نے اس کی طرف پہلے بارہا اشارات کیے ہیں ۔انہوں نے چند سالوں سے ایک نیا مسئلہ  ،، سنتِ ابراہیمی ،، یا ،، ملتِ ابراہیمی ،، کا کھڑاکیا ہے ۔ اس نئے دین میں صرف 26 سنن ہیں۔ مگر یہ سنن قران کی طرح قطعیت کے ساتھ ثابت ہیں ۔ دونوں کے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 61)

مولانا واصل واسطی کل ہم نےایک بات لکھی ہے کہ جناب غامدی نے قران کی آیت پرہاتھ صاف کیاہے۔ تو ہزار ممکن ہے کہ ان کے چاہنے والے اس بات کو ان کی تحقیر اور بے عزتی پر محمول کریں ۔اس لیے ہم آج کی اس محفل میں اس حوالے سے کچھ مزید باتیں کرنا عرض چاہ رہے ہیں ۔ ہم نے جناب غامدی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 60)

مولانا واصل واسطی دوسری بات جو جناب غامدی کی اس آیت کے لانے اور ذکرکرنے سے پیشِ نظر تھی ۔وہ یہ تھی   کہ جناب نے سنت کے حوالے سے ایک اصول یہ بنایا ہے   کہ اس کی ابتدا پیغمبرکی ذات سے ہونی چاہیے قران سے نہیں۔ جیسا کہ ،، تدبرِسنت ،، کے تیسرے اصول  کے تحت ( میزان ص 59)...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 64)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 59)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے اسی ملت یاسنتِ ابراہیمی کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ ،، زکوة ان کے ہاں بالکل اسی طرح ایک متعین حق تھی جس طرح اب متعین ہے ( میزان ص 45) اس بات کی ثبوت میں سورة المعارج کی آیت 27 ،، وفی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم ،، کا حوالہ دیا ہے ۔...

علی کاظمی

قران وسنت ( حدیث ) کا باھمی تعلق تابع ومتبوعیت یا حاکم ومحکومیت کا نہیں ، دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ہیں۔
جاوید احمد غامدی صاحب کا ایک کلپ آج کل گردش میں ہے جس میں وہ “اہل بیت کی تعیین اور مصداق” کے حوالے سے موجود احادیث وروایات کو قران کے” تابع اور محکوم” قرار دے کر ان کو خلاف قران ثابت کرتے ہیں پھر ان کی اس بنیاد پر نفی کرتے ہیں ۔
اس حوالہ سے اصولی بات یہ ہے کہ سنت واحادیث کا قران سے باھمی تعلق تابع ومتبوعیت کا نہیں ہے بلکہ دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ومطاع کی حیثیت رکھتے ہیں ( ثقاھت واستناد کے حوالہ سے احادیث کے درجات میں تفاوت کا اعتبار کرتے ھوئے )
اور حدیث کے زریعہ قران سے کسی زائد موقف کا مستقلا استدلال استخراج واستنباط کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک اصولی مسلمہ ہے۔اور اس طرح کی ہزاروں مثالیں فقہ وکلام میں موجود ہیں جس میں حدیث کے زریعہ قران سے زائد واضافہ پر مبنی احکام کی تخریج کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حدیث قران کے اجمال وابہام کی تشریح وتفسیر ، اس کے عموم کی تخصیص ، اس کے مطلق کی تقیید ، اس کے اماکن ورجال کی تعیین کا بھی ایک مستقل مربوط واصولی نظم رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب کی حال ھی میں آنے والی کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں عمار صاحب نے اس طرح کی تابعیت ومتبوعیت کے نظریہ کو “خارجیانہ حرفیت پسندی” قرار دیا ہے جس میں حدیث یہاں تک خبر واحد کے زریعہ بھی کیے جانے والے زوائد واضافہ جات کے انکار کا رویہ اپنایا گیا ھو۔
عمار صاحب نے کم وبیش دس ایسی مثالیں ذکر کرنے کے بعد جس میں خوارج نے قران کے ظاہر سے ٹکرانے والی احادیث اور اس سے مستنبط شدہ احکام کا انکار کرتے ھوئے ایسی کمی بیشی کا انکار کیا ہے کے طرز عمل پر نقد کیا ہے۔اور اس کے مقابلے میں صحابہ وتابعین کے عمل کو معیاری قرار دیا گیا ہے ۔
غامدی صاحب اگرچہ سنت کو اپنے مخصوص فہم میں قران سے مقدم مانتے ہیں اور ایک مخصوص دائرہ میں خبر واحد کی حجیت کے بھی قائل ہیں لیکن ان کی “حقیقی اصول پسندی” یہ ہے کہ “غامدی صاحب کے کوئی اصول نہیں” اور اپنی قطعی ، سنت متواترہ ، اتمام حجت ، جیسی مصطلحات سے وہ کسی دینی امر کو چیستاں بنانے کے علاوہ کسی اور دینی تحقیق ، اور اسکالر شپ کا فریضہ انہوں نے سرانجام نہیں دیا ۔
اور ان مصطلحات کو انہوں کیمو فلاج اور شکار کرنے کے لیے اپنا رکھا ہے ورنہ ان کا اصل اصول ” تناظر اور سیچویشن ” ہے ۔ وہ ایک تناظر میں کوئی اور بات کہتے ہیں دوسری صورتحال موجود ھو تو اپنی استدلالی ملمع سازی کے ساتھ پورے اہتمام و ثقاھت کے ساتھ دوسرا نقطہ نظر اپنا لیتے ہیں۔
مذکورہ وڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی ابہام گوئی اپنے عروج پر ہے اور وہ اھل بیت کی تعیین میں حدیث کساء اور دیگر روایات کو ایک عمومی غیر اصولی اصطلاح کی بھینٹ چڑھا کر ( قران کی تابعیت نامی ) آگے بڑھ جاتے ہیں اور اس امر کی کوئی تنقیح نہیں کرتے کہ خود ان کی “مصطلحات ” ( برہان ومیزان ) میں خبر واحد کے جو مستعملات ہیں تبیین تخصیص تنسیخ زیادت ان مصلحات واصول کی رو سے یہ حدیث کس درجہ پر فائز ہے اور اس کے انکار کی وجوھات واسباب کیا ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…