علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کی غلط علمیاتی بنیادیں

غامدی صاحب کی غلط علمیاتی بنیادیں

ناقد :مفتی عبد الواحد قریشی تلخیص : وقار احمد ​ غامدی صاحب کی ضلالت کو پکڑنا مشکل کام ہے اس لیے کہ ان کی باتیں عام عوام کو بالکل سمجھ نہیں آتیںمیں یہاں کچھ مثالیں دیتا ہوںالف ۔ غامدی صاحب اپنی کتاب میزان میں لکھتے ہیں کہ " قرآنِ مجید کی ایک ہی قرآت ہے جو ہمارے مصاحف...

منطقی مغالطے : جاوید احمد غامدی صاحب پر ایک نقد

منطقی مغالطے : جاوید احمد غامدی صاحب پر ایک نقد

عمران شاہد بھنڈر جاوید احمد غامدی اپنی مختصر گفتگو میں بھی منطقی مغالطوں کا انبار لگا دیتے ہیں۔ ان کی ایک گفتگو میں موجود چند مغالطے ملاحظہ ہوں۔ “عقل اور وحی کے بارے میں جب جاوید احمد غامدی صاحب سے سوال کیا گیا، تو بجائے اس کے کہ غامدی صاحب اس کا سیدھا اور دو ٹوک جواب...

حیات و نزولِ عیسی

حیات و نزولِ عیسی

سوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین جاوید احمد غامدی کے بارے میں، جس کے درجِ ذیل عقائد وخیالات ہیں اور ان کی دعوت واشاعت میں ہمہ تن مصروف ہے ۔حیات ونزول عیسیٰ کا منکر ہے ،۔ کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔﴿میزان،ص۷۸۱﴾۔ظہور مہدی کا بھی منکر ہے ،...

نظریات جاوید احمد غامدی

نظریات جاوید احمد غامدی

سوال دین اسلام کامل و مکمل دین اور ربانی ضابطۂ حیات ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ بزرگ و برتر نے اپنے ذمہ لی ہے، اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں بہت سے فتنوں نے جنم لیا اور اسلامی عمارت کو ڈھانے کی بھر پور کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے علمائے امت کے ہاتھوں ان...

من سب نبیا فاقتلوہ

من سب نبیا فاقتلوہ

سوال : حدیث "من سب نبیا فاقتلوہ" کی تحقیق مطلوب ہے، آیا یہ حدیث صحیح اور قابل اعتبار ہے یا کہ نہیں؟غامدی چینل والے اس کو ناقابل اعتبار قرار دےرہے ہیں۔اس کا کیا جواب ہے؟ جواب اگرچہ بظاہربعض تجدد پسند لوگ حدیث کی قبولیت کے لیے قرآنی موافقت کو شرط قرار دیتے ہیں اور اسناد...

جاوید احمد غامدی کے نظریات

جاوید احمد غامدی کے نظریات

سوال : جاوید احمد غامدی کے نظریات کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں،  کہاں تک ان کا اعتبار کرنا درست ہے؟ جواب جاوید احمد غامدی کے بہت سے نظریات قرآن و حدیث کے صریح نصوص کے خلاف اور اہلِ سنت و الجماعت کے اجماعی و اتفاقی عقائد سے متصادم ہیں،  جن میں سے چند درج ذیل ہیں الف۔ ...

ڈاکٹر زاہد مغل

حال ہی میں “علم النبیﷺ ” نام سے غامدی صاحب کی کتاب منظر عام پر آئی۔ کتاب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے احادیث سے کئی ایسے امور قبول کیے ہیں جو قرآن کے کسی حکم پر قابل قیاس نہیں اور نہ ہی وہ اطلاق کے قبیل سے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح انہیں ارشاد کے قبیل کی ترجیحات بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مخاطب چاہے تو کوئی اور اجتہاد کرلے۔ باالفاظ دیگر یہ امور بظاہر غامدی صاحب کے تصور شرح و وضاحت پر پورا نہیں اترتے۔ ان امور میں مثلاً قیامت کی علامات، مختلف اعمال کے ثواب وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب کے تصور کے مطابق حدیث میں ہمیشہ “فرع” ہی آسکتی ہے اور وہ “اطلاق” ہوتی ہے جو “قابل قیاس” ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حدیث سے ثابت شدہ کسی بھی حکم کی ماہیت میں یہ تین امور ہونے چاہیے: فرع، اطلاق اور قابل قیاسی۔

اس پر مندرجہ ذیل ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1: غامدی صاحب احکام کے رشتے کو دو میں بند کرتے ہیں: اصل اور فرع۔ اس لحاظ سے “علم النبی” کے تحت آنے والے درج بالا نوع کے امور “اصل” کے قبیل سے ہوئے۔ اگر یہ درست ہے، تو یہ بیک “اصل” و “فرع” کس پہلو سے ہوئے؟ نیز اگر یہ بیان اصل ہیں تو یہ بات کیسے درست رہی کہ حدیث سے دین میں کوئی اصل حکم ثابت نہیں ہوتا؟

2: اور اگر یہ درست نہیں بلکہ یہ فرع ہی ہیں، تو قابل قیاس ہوئے بغیر یہ “فرع” کیسے ہوئے؟

3: اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ “قابل قیاسی” اور “اطلاق” وہاں ہونا ضروری ہے جہاں “عمل” کی ضرورت پیش آئے نہ کہ جہاں محض علم و نظریہ کی ضرورت ہو، تو بظاہر “فقه النبی” و “علم النبی” میں فرع کا مفہوم الگ الگ ہوگا۔ اس پر مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

الف) اس فرق کو روا رکھنے کی عقلی و نقلی دلیل کیا ہے؟ جو معاملہ “علم النبی” کے تحت جائز ہے وہ “فقه النبی” کے تحت کیوں جائز نہیں؟ کتاب “علم النبی” کے دیباچے میں آپ نے ایسے کسی فرق کا ذکر نہیں کیا۔

ب) جب “علم النبی” سے یہ لزوم ثابت ہوگیا کہ بغیر اطلاق ہوئے بھی احادیث میں مذکور امور پر اعتقاد واجب ہے، تو یہ عقیدے میں اضافہ کیونکر نہ ہوا؟ یہاں یہ لفظی بحث نہیں کہ غامدی صاحب لفظ “عقیدے” کا اطلاق مثلا صرف “چھ امور” پر کرتے ہیں اور ان کی تفصیلات کے لیے یہ اصطلاح نہیں برتتے یا غامدی صاحب لفظ “دین” کا اطلاق “اصل” پر کرتے ہیں، “فرع” پر نہیں کرتے۔ یہاں بحث حکم کی ہے کہ غامدی صاحب “لزوم” کا حکم، مراتب کے فرق کے لحاظ سے، عائد کر رہے ہیں اور مراتب کا یہ فرق تو قرآن سے ثابت شدہ احکام میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ قروء سے حیض مراد ہونا اور ختم نبوت سے وہ مراد ہونا جو امت سمجھتی ہے دونوں قرآن ہی سے آئے ہیں لیکن دونوں میں فرق مراتب ہے۔ اس لیے حکم کے درجے میں فرق کے باوجود یہاں عقیدہ یا نظریہ ثابت ہوتا ہے۔

ج) اسی سے یہاں یہ بات بھی پیدا ہوتی ہے کہ جسے عمل کہا جاتا ہے وہاں بھی عقیدے یا علم کا ایک درجہ شامل ہوتا ہے۔ مثلا غامدی صاحب اگر “قروء” سے حیض مراد لے کر فتوی دیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ یہ تصور ہی باندھتے ہیں کہ اس لفظ سے قرآن کی وہی مراد ہے جو انہوں نے سمجھی اور یہ مراد لینا کم از کم خود پر واجب سمجھتے ہیں۔ اسے عقیدے کا پہلو کہتے ہیں۔ اس لئے یہ فرق مفید مطلب نہیں رہتا۔

4: غامدی صاحب کے مطابق قرآن میں “مجمل مفتقر الی البیان” نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں “علم النبی” کے تحت وہ “تعیینات” آگئیں جن کا اجمال قرآن میں موجود ہے (جیسے قیامت و جنت جہنم وغیرہ کی تفصیلات)، تو یہ قرآن میں مجمل کے نہ صرف ماننے بلکہ حدیث یعنی خبر واحد سے اس کے بیان تفسیر کو اخذ کرنے کے سوا اور کیا ہوا؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…