اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 81)

مولانا واصل واسطی رسولوں کے اتمامِ حجت کے خود ساختہ قاعدے کے متعلق ہم نے ان حضرات کے چاراصولوں کا تجزیہ گذشتہ مباحث میں کرکے دکھایا ہے کہ ان چار باتوں سے اس مدعا کا اثبات قطعا نہیں ہوتا ۔ آج اس سلسلے کی آخری اصول کے بابت ہم بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بات کو ہم تین شقوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

مولانا واصل واسطی اس مذکورہ بالا مسئلہ میں جناب غامدی نے چند اور باتیں بھی بطورِ اصول لکھی ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی کوئی بات اوراصول بھی اپنے مدعا کامثبت نہیں ہے۔ جناب کی ایک عبارت کاخلاصہ یہ ہے  کہ جب کوئی نبی علیہ السلام اپنی قوم پرحجت پوری کرتا ہے   تو اس قوم پر پھر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 79)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان حضرات کے  اس دوسرےاصول کا جائزہ لیتے ہیں کہ اہلِ مکہ پرعذابِ الہی کانزول نبی صلی اللی علیہ وسلم اورصحابہ کے ہاتھوں نازل ہو تھا ۔ اور کیا واقعی اہلِ مکہ کے متعلق شرع میں یہ حکم تھا  کہ ان کے بچنے کے اب فقط دوہی طریقے ممکن ہیں  کہ یاتو وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 78)

مولانا واصل واسطی اس بات کی معمولی تفصیل ہم یہاں کرتے ہیں تاکہ مولانا مودودی سے عقیدت رکھنے والے لوگ ہماری اس بات سے دکھی نہ ہوں ۔  یہ تو معلوم ہے کہ سیدنا یونس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ "وان یونس لمن المرسلین اذابق الی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 77)

مولانا واصل واسطی اس قسط میں ہم" اتمامِ حجت "کے اس قانون کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن پہلے جناب غامدی صاحب  کے عبارت کو دوبارہ دیکھنا ضروری ہے ۔ جناب غامدی لکھتے ہیں " یہ آخری مرحلہ ہے اس میں اسمان کی عدالت زمیں پر قائم ہوتی ہے ۔ خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے:
1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں،
2) جب احتمال کے لئے پیش کردہ دلیل ناقابل التفات ہو (اسے غیر ناشی عن دلیل احتمال کہتے ہیں)، اس کی مثال ظاہر، نص و خبر مشہور ہیں۔
چنانچہ قطعی کا مطلب وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔
یہاں تک بات ٹھیک ہوگئی۔ تاہم آگے جاکر اسے قرآنی آیات سے متعلق کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
“ان کے الفاظ ہی ان کی تفسیر ہیں اور ان میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
یہاں انہوں نے قطعیت کے درج بالا تصورات کو جس طرح نسخ پر لاگو کردیا ہے یہ خلط مبحث ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات قرآن میں مذکور “محکم” کے سوا ہر حکم کو نسخ کا احتمال لاحق رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ محکم دو طرح کا ہے:
(الف) حسن و قبح عقلی سے ثابت مقدمات جیسے شکر منعم کا حسن اور جھوٹ وغیرہ کا قبیح ہونا،
(ب) وہ احکام جو لفظ “ہمیشگی” کے مفہوم کا فائدہ دینے والے الفاظ (جیسے “ابدا”) کے ساتھ نازل ہوئے ہوں،
ان کے سوا مفسر، نص و ظاہر سب کو نسخ کا صرف احتمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ناشی عن دلیل احتمال ہوتا ہے اور اسی لئے احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات خبر واحد تک سے نسخ جائز ہوتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک حکم کی تابید صرف استصحاب حال پر مبنی ہوتی ہے جو کہ ظنی دلیل ہے۔ چنانچہ وہ احکام جو نسخ کا احتمال نہ ہونے کی بنا پر درج بالا مفہوم میں قطعی ہیں، احناف کے نزدیک وہ گنتی کے چند احکام ہیں۔ البتہ عام کی دلالت چونکہ اعیان یا افراد پر احناف کے نزدیک قطعی ہے، لہذا متصل تخصیص ہوئے بغیر وہ دوسرے معنی (ناشی عن دلیل احتمال سے پاک ہونے کے مفہوم) میں قطعی ہے۔ رہ گئے احناف کے سوا دیگر جمہور اصولیین، تو ان کے نزدیک چونکہ حسن و قبح عقلی معتبر نہیں اور راجح رائے کے مطابق لفظ “ابدا” کی دلالت بھی تخصیص قبول کرتی ہے لہذا ان کے نزدیک حنفی اصطلاح محکم کے درجے پر کوئی آیت نہیں جو سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ ہوسکے۔ رہا تخصیص کا احتمال، تو اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ عام کی دلالت ظنی ہے۔
الغرض غامدی صاحب نے یہاں بھی اصولیین کے کچھ تصورات کو لے کر ان کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نسخ سے متعلق درج بالا سطور لکھتے ہوئے وہ اس حقیقت پر بھی غور نہ کرسکے کہ اگر آیات قرآنیہ کو ناشی عن دلیل نسخ کا احتمال لاحق ہی نہیں تو بعض قرآنی احکام منسوخ کیسے ہوئے، چاہے قرآن سے ہوئے ہوں؟
یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ احناف کے نزدیک بھی سارا قرآن درج بالا دوسرے معنی میں قطعی نہیں اس لئے کہ وہ الفاظ کی دلالتوں کے فرق کو بخوبی جانتے تھے اور انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔ البتہ مولانا فراہی صاحب نے کسی لسانیاتی اصول کی نشاندہی کے بغیر نظم قرآن کے تصور کے زور پر سارے قرآن کو قطعی قرار دے دیا ہے حالانکہ جزوی مسائل میں زیر بحث احتمالات جس قسم کے لسانیاتی امور سے جنم لیتے ہیں انہیں حل کرنے میں سورتوں کے جوڑے، سورت کا عمود، سورت کے مضامین وغیرہ جیسے استقرائی امور اکثر و بیشتر غیر متعلق ہوتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…