سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

جہانگیر حنیف تفسیر قرطبی: یہ آیت [سورہ انعام، ١٤٥] دراصل جاہلیت کے ان باطل عقائد کے رد میں نازل ہوئی ہے، جن کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط روش کی تردید فرمائی اور اس کے بعد بہت سی چیزیں...

دس نکات: غامدی صاحب کے تصورِ سنت پر تنقید خور و نوش کے تناظر میں

جہانگیر حنیف خور و نوش کے تناظر میں غامدی صاحب کے تصورِ سنت پر ہماری طرف سے متعدد تحاریر سامنے آ چکی ہیں۔ اِن تحاریر میں پیش کیے جانے والے نقد کو ہم نے دس نکات میں جمع کردیا ہے۔ یہ دس نکات واضح کرتے ہیں کہ: الف۔ غامدی تصورِ سنت غیر واضح اور بہت صحیح معنوں میں ایک مہمل...

2 غامدی صاحب کا اپنے ہی اصولوں کو پامال کرنا | محرماتِ طعام سنت ہیں

جہانگیر حنیف اگر غامدی صاحب یا اُن کے رفقاء سنت کی غامدی تعریف کو پیش کرتے ہیں اور یہ پوزیشن اختیار کرتے ہیں کہ دین کی ابراہیمی روایت سنت ہے۔ اور یہ محرماتِ طعام اُسی روایت کا حصہ ہیں۔ تو اِس پر ہمارے پانچ اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کہ دین کی ابراہیمی...

غامدی صاحب کا اپنے ہی اصولوں کو پامال کرنا | محرماتِ طعام سنت ہیں

جہانگیر حنیف اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے لیے یہ تضاد کیسے ممکن ہوا۔ اُنھوں نے اصول و مبادی کے آغاز میں محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا دعویٰ فرمایا اور خور و نوش کے باب میں اِنھی محرمات کو قرآن مجید سے ماخوذ احکامات کے طور پر پیش کیا۔ یہ اُن کے فکر و عمل میں ایک...

فکرِ غامدی کے تناقضات | خور و نوش سے مزید استشہاد

جہانگیر حنیف بیانِ شریعت کو بیانِ فطرت قرار دینے سے کیا علمی و فقہی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ غامدی صاحب نے شراب کی حرمت کو بیانِ فطرت قرار دیا، حالانکہ قرآن مجید اِسے رجس قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید نے مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کو رجس قرار دیا۔...