غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

Published On April 8, 2025
جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

ڈاکٹر زاہد مغل

محترم غامدی صاحب اہل تصوف کی فکر کو خارج از اسلام دکھانے کے لئے یہ تاثر قائم کرواتے ہیں کہ توحید سے متعلق ان کے افکار قرآن میں مذکور نہیں۔ اپنے مضمون “اسلام اور تصوف” میں آپ الہ کا یہ مطلب لکھتے ہیں:
” ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے۔”
اس کے بعد انہوں نے جو آیات نقل کیں وہ یہ ہیں:
۔1) ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ، عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ. ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ، سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ. ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیئُ الْمُصَوِّرُ، لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی، یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(۹۵:۲۲-۴۲)
۔2) قُلْ: ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
۔3) اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ، وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ
کیا ان میں سے کسی بھی آیت میں ایسا کوئی لفظ ہے جس کا ترجمہ “اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف” ہوسکے؟ یہی آیات نہیں بلکہ پورے قرآن میں ہمارے مطالعے کی حد تک ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس میں الہ کی یہ تعریف درج ہو (یاد رہے کہ اس معنی کو عربی لغت کی رو سے الہ کا گویا واحد معنی ہونے کا تاثر دینا بھی تحکم ہے)۔ الہ کی ان کی بیان کردہ یہ تعریف بذات خود ایک فلسفیانہ تعریف ہے اور جناب غامدی صاحب اس فلسفیانہ تعریف کو بنیاد بنا کر صوفیا سے سوال فرماتے ہیں کہ بتاؤ توحید کے تمہارے بیان کردہ مراتب قرآن میں کہاں مذکور ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پہلے آپ وہ آیت لے آئیں جس میں الہ کی یہ تعریف درج ہے اور جس سے ثابت ہوسکے کہ شریعت نے الہ کے اس ہی مفہوم کا اعتبار کیا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہی وہ چند آیات ہیں جنہیں بنیاد بنا کر انہوں نے دعوی فرمایا تھا کہ صوفیا کی بیان کردہ توحید خارج از قرآن ہے۔ باالفاظ دیگر یہ آیات ان کے اس استدلال کی کل کائنات ہیں جس سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جناب غامدی صاحب نے قرآن سے یہ ثابت کیا کہ صوفیا کی توحید قرآن کے خلاف ہے!۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…