احسان و تصوف اور غامدی صاحب کی بدفہمی – 5

Published On September 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

مولانا واصل واسطی اس مذکورہ بالا مسئلہ میں جناب غامدی نے چند اور باتیں بھی بطورِ اصول لکھی ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی کوئی بات اوراصول بھی اپنے مدعا کامثبت نہیں ہے۔ جناب کی ایک عبارت کاخلاصہ یہ ہے  کہ جب کوئی نبی علیہ السلام اپنی قوم پرحجت پوری کرتا ہے   تو اس قوم پر پھر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 79)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان حضرات کے  اس دوسرےاصول کا جائزہ لیتے ہیں کہ اہلِ مکہ پرعذابِ الہی کانزول نبی صلی اللی علیہ وسلم اورصحابہ کے ہاتھوں نازل ہو تھا ۔ اور کیا واقعی اہلِ مکہ کے متعلق شرع میں یہ حکم تھا  کہ ان کے بچنے کے اب فقط دوہی طریقے ممکن ہیں  کہ یاتو وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 78)

مولانا واصل واسطی اس بات کی معمولی تفصیل ہم یہاں کرتے ہیں تاکہ مولانا مودودی سے عقیدت رکھنے والے لوگ ہماری اس بات سے دکھی نہ ہوں ۔  یہ تو معلوم ہے کہ سیدنا یونس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ "وان یونس لمن المرسلین اذابق الی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 77)

مولانا واصل واسطی اس قسط میں ہم" اتمامِ حجت "کے اس قانون کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن پہلے جناب غامدی صاحب  کے عبارت کو دوبارہ دیکھنا ضروری ہے ۔ جناب غامدی لکھتے ہیں " یہ آخری مرحلہ ہے اس میں اسمان کی عدالت زمیں پر قائم ہوتی ہے ۔ خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 76)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم کوشش کریں گےکہ مکتبِ غامدی کے  خود ساختہ قرانی " قانونِ اتمامِ حجت" پر بات کرنے سے پہلے اپنے احباب کو دو قرانی اصول سمجھا سکیں ۔ ان دواصولوں میں سے پہلا قرانی اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس قوم کو بھی ہلاک اورنیست ونابود کیاہے  تواس کی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 75)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم اس" قانونِ اتمام حجت " کو بیان کریں گے جس کا تذکرہ جگہ جگہ یہ حضرات کرتے ہیں ۔ جناب غامدی اور ان کےاستاد امام  نے اس قانون کی تفصیلات اپنی کتابوں میں پیش کردی ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ قانون ہی غلط ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بعد میں کرلیں گے ۔...

مفتی عبد الواحد

  1. فرشتوں کی بات سننا اور ان سے فائدہ اٹھانے کو یہ کہنا کہ وحی آتی ہے، بہت ہی بڑی نادانی ہے اور وحی کے شرعی معنی سے ناواقعی کی بڑی دلیل ہے۔ وحی تو صرف اس کلام الہی کو کہتے ہیں جو کسی نبی کی طرف نازل کیا گیا ہو۔

جب یہ معلوم ہو گیا کہ صرف وہی خاصہ نبوت ہے اور وحی اس کلام الہی کو کہتے ہیں جو کسی نبی کی طرف نازل کیا گیا ہو، تو کسی غیر نبی کا فرشتوں کو دیکھنا یا ان کی بات سننا یا اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا نظارہ کرنا یا باذن خداوندی کسی امر غیب کو جان لینا، اگرچہ لوح محفوظ پر نظر کر کے ہو یا اس کا آسمان کی سیر کرنا یا اللہ تعالی کا اس سے گفتگو کرنا، ان باتوں کی وجہ سے یہ الزام دینا کہ وہ غیر نبی حریم نبوت میں نقب لگا چکا، کس قدر انصاف سے بعید ہے۔

  1. غامدی صاحب کا یہ اعتراض کہ یہ اکابر عصمت کے بھی مدعی ہیں، تو اس کی حقیقت شاہ اسماعیل شہید اپنی کتاب عبقات میں یوں دیتے ہیں:
    “علامات ان کتابوں میں سے ہے جس کے بکثرت حوالے نقل کر کے غامدی صاحب نے اپنے مضمون ‘اسلام اور تصوف میں صوفیہ کی گمراہی کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے’ میں ذکر کیا ہے۔”

بعض لوگوں کو اس مسئلہ پر شدت سے اصرار ہے کہ پیغمبروں کے سوا عصمت کی صفت کا انتساب کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سے کیا مطلب ہے؟ اگر یہ فرض ہے کہ پیغمبروں کے سوا کسی دوسرے کے لیے عصمت کی صفت شریعت سے ثابت نہیں، تو علاوہ اس اعتراض کے یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا:
“الحق ينطق على لسان عمر”
یا حضرت علی کے متعلق فرمایا:
“دار الحق مع علی حيث دار”
پیغمبر کے ان اقوال یا ان ہی جیسے دوسرے اقوال جن کا مقصد یہی ہے، ان سب کی خواہ مخواہ تاویل کرنی پڑے گی۔

اور اگر ان کی غرض یہ ہے کہ واقعہ میں پیغمبروں کے سوا عصمت کی صفت کسی دوسرے انسان کے لیے ثابت نہیں ہو سکتی، تو ظاہر ہے کہ اس دعویٰ کے اثبات میں دلیل پیش کرنا ان کا فرض ہے، کیونکہ شرعی طور پر زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ شریعت پیغمبروں کے سوا دوسروں کی عصمت کے متعلق خاموش ہے، لیکن کسی چیز سے خاموشی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ شریعت اس کی منکر ہے۔

علاوہ ازیں، مسئلہ میں کچھ تفصیل بھی ہو سکتی ہے، یعنی عصمت کی دو قسمیں ہیں:

  • ایک عصمت مطلقہ، جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے سارے شعبوں، اقوال، اعمال و افعال اور علوم میں عصمت کو ثابت کیا جائے۔

  • دوسری قسم عصمت مقیدہ، جس کا مطلب یہ ہے کہ خاص خاص قسم کے افعال و اعمال و اقوال و علوم میں عصمت کو ثابت کیا جائے۔

بالفاظ دیگر یوں کہا جائے کہ جس منصب کے فرائض اس شخص کے سپرد ہوئے ہیں، اس منصب سے جن امور کا تعلق ہے، ان میں وہ معصوم ہوتا ہے، یعنی صرف ان خاص امور میں اس سے صادر نہیں ہو سکتی۔ [عبقات: ۱۱، شمارہ ۴]

اس کا حاصل یہ ہے کہ عصمت مطلقہ نبی کو حاصل ہو اور عصمت مقیدہ کسی ولی کو حاصل ہو۔

  1. غامدی صاحب نے ابن عربی پر یہ الزام بھی لگایا کہ ان کے نزدیک ختم نبوت کے معنی صرف یہ ہیں کہ منصب تشریح اب کسی شخص کو حاصل نہ ہوگا۔ نبوت کا مقام اور اس کے کمالات اس طرح باقی ہیں اور یہ اب بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ غامدی صاحب یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ابن عربی وغیرہ کے نزدیک صاحب شریعت نہیں، تو نہیں، البتہ ایسا نہیں ہو سکتا جو صاحب شریعت نہ ہو۔ غامدی صاحب اگر ابن عربی کی فتوحات کا یہ ٹکڑا بھی ملاحظہ کر لیتے تو شاید ان کو بہتر فیصلہ کرنے کی توفیق ہوتی۔

اعلم أن الملك ياتي النبي بالوحى على حالين تارة ينزل على قلبه وتارة ياتيه في صورة جسدية من خارج ….. و هذا باب أغلق بعد موت محمد فلا يفتح أحد إلى يوم القيامة ولكن بقى للأولياء وحى الإلهام الذي لا تشريع فيه. [باب: ۱۴]

فرشتہ دو حالتوں میں وحی لاتا ہے۔ کبھی تو اس کے قلب پر نازل ہوتا ہے اور کبھی اس کے پاس خارج سے صورت جسدی میں آتا ہے۔ یہ ایک باب ہے جو وفات نبوی کے بعد بند کر دیا گیا اور قیامت تک کسی کے لیے نہ کھلے گا۔ لیکن اولیاء کے لیے وہ وحی جس کی حقیقت الہام ہے، باقی رہ گئی ہے، جس میں تشریع (یعنی احکام) نہیں ہیں۔

لا يصح لأحد منا دخول مقام النبوة [باب: ۳۶۲]
ہم (اولیاء) میں سے کسی کو مقام نبوت میں داخل ہونا ممکن نہیں۔

البته کمالات نبوت وہ اوصاف نہیں ہیں جن کی تحصیل امت کے لیے مطلوب ہے۔ ہاں اس درجے تک جو نبی کو حاصل تھے، امت کے لیے تحصیل ممکن نہیں۔

  1. سورہ کہف میں حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں صراحت ہے کہ وہ عالم امر میں ذات خداوندی کے آلہ اور غلام تھے۔ اگر اللہ تعالی ایسے ہی کسی اور کو بھی بتائیں تو کیا مستجد ہے؟ لیکن غامدی صاحب کو قرآن کی یہ بیان کردہ غلامی خدا کی بادشاہی میں شرکت نظر آتی ہے اور یہ غامدی صاحب کی دینی بصیرت کے انتہائی ضعف پر واضح دلیل ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.